بقرہ · 134/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۝١٣٤
Tilka ummatun qad khalat lahaa maa kasabat wa lakum maa kasabtum wa laa tus`aloona `ammaa kaano ya`maloon
📖 اردو ترجمہ
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تِلْكَ أُمَّةٌ: وہ جماعت (جو گزر چکی)
  • قَدْ خَلَتْ: گزر چکی، پیچھے جا چکی
  • لَهَا مَا كَسَبَتْ: اس کے لیے ہے جو اس نے کمایا (نیکی یا بدی)
  • وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ: اور تمہارے لیے ہے جو تم کماؤ گے
  • لَا تُسْأَلُونَ: تم سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ایک عظیم حقیقت بیان کرتی ہے جو اسلام کے عدل و انصاف کے نظام کا بنیادی اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ امتیں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں، وہ اپنے اعمال کی ذمہ دار تھیں۔ انہوں نے جو کچھ کمایا، اچھا ہو یا برا، اس کا بدلہ انہیں ملے گا۔ اور تمہارے لیے تمہارے اپنے اعمال ہیں، جن کا حساب تم سے لیا جائے گا۔

یہ آیت اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے جو بعض لوگوں کو ہوتی ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی نیکیوں پر فخر کرتے ہیں یا ان کی برائیوں کا خوف رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ نہ کوئی کسی کا بوجھ اٹھائے گا، نہ کسی کی نیکی کسی اور کے کام آئے گی۔ یہی اللہ کا عدل ہے کہ ہر شخص کو اس کے اپنے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

اس آیت میں ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنے آباء و اجداد کی تقلید میں اندھا ہو کر ان کی غلطیوں پر قائم نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اپنے عمل کو خود سنوارنا چاہیے۔ جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں، وہ اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوں گے، اور ہم اپنے اعمال کے ساتھ۔

یہ آیت مسلمانوں کو ایک عظیم پیغام دیتی ہے کہ وہ اپنی نجات کا راستہ خود اپنے اعمال سے بنائیں، نہ کہ دوسروں کی نیکیوں پر بھروسہ کریں۔ اللہ کے ہاں کوئی سفارش یا وراثت کام نہیں آئے گی، صرف ایمان اور تقویٰ ہی نجات کا ذریعہ ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام ایک ذمہ داری کا دین ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے کہ ہم اپنی زندگی کو خود سنواریں، اپنے اعمال کو خود درست کریں، اور اپنے مستقبل کو خود روشن بنائیں۔ اللہ نے ہر شخص کو عقل اور اختیار دیا ہے تاکہ وہ اپنے عمل سے اپنی منزل خود طے کرے۔ یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ یہ انسان کو خود مختار بناتا ہے، اسے خود اعتمادی دیتا ہے، اور اسے سکھاتا ہے کہ کامیابی کا راز کسی اور کے پاس نہیں، بلکہ تمہارے اپنے عمل میں ہے۔

آئیے ہم اس آیت پر عمل کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اللہ کی رحمت کے طلبگار بنیں، کیونکہ اللہ کی رحمت کے بعد ہی انسان کو اس کا عمل نفع دے گا۔ اللہ ہمیں عمل صالح کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 132-136 — بقرہ

132وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
133أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
134تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
135وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
136قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
134آیت

ترجمہ — بقرہ 134

سورہ بقرہ آیت 134 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ…

سورہ آیت 134/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 132–136. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں