بقرہ · 133/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ۝١٣٣
Am kuntum shuhadaaa`a iz hadara Ya`qoobal mawtu iz qaala libaneehi maa ta`budoona mim ba`dee qaaloo na`budu ilaahaka wa ilaaha aabaaa`ika Ibraaheema wa Ismaa`eela wa Ishaaqa Ilaahanw waahidanw wa nahnu lahoo muslimoon
📖 اردو ترجمہ
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • شُہَدَاء: حاضر ہونے والے، گواہ
  • حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ: یعقوب علیہ السلام کے پاس موت آئی، یعنی وہ حالتِ نزع میں تھے
  • مِن بَعْدِی: میرے بعد
  • مُسْلِمُونَ: اطاعت گزار، فرمانبردار، اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے

تفسیر:

اے اہلِ کتاب! کیا تم اس وقت حاضر تھے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا؟ ہرگز نہیں! تم تو وہاں موجود ہی نہیں تھے، پھر تم یہ دعویٰ کیسے کرتے ہو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو یہودیت پر برقرار رہنے کی وصیت کی تھی؟ یہ تمہارا جھوٹ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے پوچھا: "میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟" یہ سوال انہوں نے محض اس لیے نہیں کیا کہ انہیں اپنے بیٹوں پر اعتماد نہیں تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے توحید کا عہد لے کر جائیں اور انہیں اس پر مضبوطی سے قائم رکھیں۔

بیٹوں نے جواب دیا: "ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے، جو آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام کا بھی خدا ہے، وہ ایک ہی خدا ہے، ہم اسی کے فرمانبردار اور اطاعت گزار ہیں۔"

غور کیجئے! حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے موت کے قریب یہ سوال کیا تاکہ ان کی زبان سے توحید کا اقرار سن کر مطمئن ہوں اور یہ عہد ان کے دلوں میں نقش ہو جائے۔ بیٹوں نے بھی نہایت خوبصورت جواب دیا — انہوں نے نہ صرف اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا بلکہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکا دیا، یہی توحید کا مکمل تقاضا ہے۔

یاد رکھیے! یہی توحید ہر نبی کی دعوت کا مرکز و محور رہی ہے۔ حضرت ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام سب نے اسی ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنی اولاد کو اسی کی وصیت کی۔ آج بھی ہمارے لیے یہی راستہ کامیابی کا راستہ ہے — ایک اللہ کی عبادت، اس کے سامنے مکمل سرتسلیم خمی، اور اپنی اولاد کو اسی عظیم ورثے کی وصیت کرنا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی اولاد کو توحید پر مضبوطی سے قائم رکھنے کی فکر کرنی چاہیے، جیسا کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے کی۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، اس کے سامنے جھکیں، اور اسی کی اطاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں۔ یہی وہ عظیم وصیت ہے جو ہمیں اپنے اسلاف سے ملی ہے اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچانی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 131-135 — بقرہ

131إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
132وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
133أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
134تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
135وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
133آیت

ترجمہ — بقرہ 133

سورہ بقرہ آیت 133 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس…

سورہ آیت 133/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 131–135. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں