بقرہ · 135/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۝١٣٥
Wa qaaloo koonoo Hoodan aw Nasaaraa tahtadoo; qul bal Millata Ibraaheema Haneefanw wa maa kaana minal mushrikeen
📖 اردو ترجمہ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ہُودًا: یہودی بن جاؤ۔
  • نَصَارَىٰ: نصرانی بن جاؤ۔
  • تَهْتَدُوا: ہدایت پاؤں گے۔
  • مِلَّةَ: دین، طریقہ۔
  • حَنِيفًا: ہر باطل دین سے ہٹ کر صرف حق کی طرف مائل ہونے والا، توحید پر قائم رہنے والا۔

تفسیر:

یہود اور نصاریٰ دونوں گروہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ — یہودی کہتے تھے کہ یہودی بنو، اور نصرانی کہتے تھے کہ نصرانی بنو۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ہدایت صرف انہی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ انہیں جواب دیں: ہم تمہاری پیروی نہیں کریں گے، بلکہ ہم تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت (دین) کی پیروی کریں گے، جو ہر باطل سے ہٹ کر صرف حق کی طرف مائل تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اصل ہدایت اللہ کے بھیجے ہوئے دینِ حق میں ہے، نہ کہ کسی قوم یا گروہ کی من گھڑت روایات میں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین توحید اور اخلاص تھا، اور وہ اس امت کے باپ ہیں، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسی صاف اور سیدھے راستے پر چلیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہدایت کسی خاص قوم یا فرقے کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ جو شخص بھی خلوص دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے اور رسولوں کی پیروی کرے، وہ ہدایت یافتہ ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنے مذہبی یا قومی تعصبات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کہتے ہیں، لیکن قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل کسوٹی توحید اور سنتِ ابراہیمی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال اور عقیدے کو قرآن و سنت پر پرکھیں، نہ کہ محض روایات یا خاندانی پس منظر پر۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچا سکتا ہے۔ اللہ ہمیں سچی ہدایت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 133-137 — بقرہ

133أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
134تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
135وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
136قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
137فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
135آیت

ترجمہ — بقرہ 135

سورہ بقرہ آیت 135 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی…

سورہ آیت 135/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 133–137. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں