بقرہ · 164/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلۡفُلۡكِ ٱلَّتِي تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَعۡقِلُونَ  ۝١٦٤
Inna fee khalqis samaawaati wal ardi wakhtilaafil laili wannahaari walfulkil latee tajree fil hahri bimaa yanfa`unnaasa wa maaa anzalal laahu minas samaaa`i mim maaa`in fa ahyaa bihil arda ba`da mawtihaa wa bas sa feehaa min kulli daaabbatinw wa tasreefir riyaahi wassahaabil musakhkhari bainas samaaa`i wal ardi la aayaatil liqawminy ya`qiloon
📖 اردو ترجمہ
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْفُلْكِ: کشتیاں
  • بَثَّ: پھیلانا، پھیلا دینا
  • تَصْرِيفِ الرِّيَاحِ: ہواؤں کا ادھر ادھر پھیرنا، مختلف سمتوں سے چلانا
  • الْمُسَخَّرِ: مسخر، تابع، حکم کے ماتحت
  • يَعْقِلُونَ: عقل رکھنے والے، سمجھنے والے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں بیان فرما رہے ہیں تاکہ انسان غور و فکر کرے اور اپنے رب کو پہچانے۔

آسمانوں کی تخلیق، ان کی بلندی، وسعت اور عظمت، اور زمین کی تخلیق اس کی پہاڑیاں، میدان، سمندر، دریا، یہ سب کچھ اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے۔ رات اور دن کا آنا جانا، ان کا ایک دوسرے کی جگہ لینا، کبھی دن لمبا ہوتا ہے اور کبھی رات، کبھی روشنی غالب آتی ہے اور کبھی اندھیرا، یہ نظام جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے، اس میں انسان کے لیے بے شمار نشانیاں ہیں۔

پھر کشتیاں جو سمندروں میں چلتی ہیں اور لوگوں کے لیے سامان تجارت، خوراک، لباس اور دیگر ضروریاتِ زندگی لے کر آتی ہیں، یہ بھی اللہ کی رحمت کا نمونہ ہے۔ اللہ نے پانی کو اس قابل بنایا کہ وہ بھاری کشتیوں کو اٹھائے اور وہ اس پر چلتی رہیں۔

اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے، جس سے زمین جو پہلے خشک اور بے جان پڑی ہوتی ہے، زندہ ہو جاتی ہے، اس میں ہریالی آ جاتی ہے، کھیتیاں اگ آتی ہیں، اور ہر قسم کے جانور زمین پر پھیل جاتے ہیں۔ یہ منظر دیکھنے والے کے لیے اللہ کی قدرت کا زندہ ثبوت ہے۔

ہواؤں کا چلنا، کبھی گرم، کبھی سرد، کبھی تیز اور کبھی نرم، اور بادلوں کا آسمان اور زمین کے درمیان اللہ کے حکم سے ادھر ادھر چلنا، پھر ان سے بارش کا برسنا، یہ سب کچھ اس نظام کا حصہ ہے جو اللہ نے قائم کر رکھا ہے۔

یہ تمام چیزیں صرف اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان سب کا ایک خالق ہے، ایک مالک ہے، اور وہی عبادت کے لائق ہے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا اپنے ارد گرد دیکھیں، یہ کائنات، یہ نظام، یہ قدرت کے جلوے، کیا یہ سب کچھ خود بخود بن گیا؟ کیا کوئی ایسا نظام بغیر کسی منتظم کے چل سکتا ہے؟ ہر ذرے میں اللہ کی نشانی ہے، ہر منظر میں اس کی قدرت کا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان نشانیوں پر غور کریں اور اپنے رب کو پہچانیں، اسی کی عبادت کریں اور اسی کے احکام پر عمل کریں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 162-166 — بقرہ

162خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ 
وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی
163وَإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ 
اور (لوگو) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
164إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلۡفُلۡكِ ٱلَّتِي تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَعۡقِلُونَ 
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
165وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمۡ كَحُبِّ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِۗ وَلَوۡ يَرَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِذۡ يَرَوۡنَ ٱلۡعَذَابَ أَنَّ ٱلۡقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعَذَابِ 
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
166إِذۡ تَبَرَّأَ ٱلَّذِينَ ٱتُّبِعُواْ مِنَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ وَتَقَطَّعَتۡ بِهِمُ ٱلۡأَسۡبَابُ 
اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں) عذاب (الہیٰ) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
164آیت

ترجمہ — بقرہ 164

سورہ آیت 164/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 162–166. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں