بقرہ · 165/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ۝١٦٥
Wa minan naasi mai yattakhizu min doonil laahi andaadai yuhibboonahum kahubbil laahi wallazeena aamanooo ashaddu hubbal lillah; wa law yaral lazeena zalamoo iz yarawnal `azaaba annal quwwata lillaahi jamee`anw wa annallaaha shadeedul `azaab
📖 اردو ترجمہ
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أنداداً: ہمسر، مثل، شریک، یعنی اللہ کے برابر ٹھہرائے جانے والے معبود۔
  • یحبونھم کحب اللہ: انہیں ایسی محبت دیتے ہیں جیسی اللہ کی محبت ہونی چاہیے۔
  • أشد حباً للہ: اللہ سے بہت زیادہ محبت رکھنے والے۔
  • القوة: طاقت، غلبہ، اقتدار۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت کے بے شمار دلائل اور نشانیاں پیش فرمائیں، جیسے آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کی گردش، بارش کا نزول اور زمین کا احیاء وغیرہ۔ اس کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کو اس کا شریک اور ہمسر بناتے ہیں۔ وہ ان بتوں، مورتیوں اور اولیاء سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ وہ انہیں پکارتے ہیں، ان سے مدد مانگتے ہیں، ان کے آگے جھکتے ہیں اور ان کی رضا کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اللہ کا حق ہے، کسی اور کا نہیں۔

مگر جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کی محبت اللہ کے ساتھ ان مشرکوں کی اپنے معبودوں سے محبت سے کہیں زیادہ اور شدید ہے۔ کیونکہ مؤمن کا دل خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے، وہ ہر حال میں اللہ سے محبت کرتے ہیں، خوشی اور غمی دونوں میں، آسانی اور سختی دونوں میں۔ جبکہ مشرکین کی محبت کمزور اور مشروط ہوتی ہے — جب وہ مصیبت میں پڑتے ہیں تو اپنے بتوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ کو پکارتے ہیں، اور جب اچھے حالات ہوتے ہیں تو پھر اپنے شرک پر لوٹ آتے ہیں۔ نیز اگر انہیں کوئی بہتر بت مل جائے تو پرانا بت چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سب ان کی محبت کی کمزوری اور جہالت کی دلیل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ظالم لوگ — جنہوں نے شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا — اس وقت کو دیکھ لیں جب وہ قیامت کے دن عذاب کو آنکھوں سے دیکھیں گے، تو انہیں یقین ہو جائے گا کہ ساری طاقت، سارا اقتدار اور ساری قوت صرف اللہ کے لیے ہے۔ کوئی بت، کوئی صنم، کوئی ولی، کوئی پیر — کسی کے پاس ذرہ برابر بھی طاقت نہیں۔ اور یہ کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، کوئی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اس حقیقت کو جان لیتے تو کبھی اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہ بناتے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ محبت کا اصل مرکز صرف اللہ ہونا چاہیے۔ ہم اپنے دل کی محبت، اپنی عبادت، اپنی دعا، اپنی امید اور اپنا ڈر — سب کچھ صرف اللہ کے لیے رکھیں۔ جو شخص اپنی محبت میں اللہ کو کسی کا شریک ٹھہراتا ہے، وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھائے گا۔ لیکن جو لوگ اپنی محبت کو خالص اللہ کے لیے کر لیں، وہی کامیاب ہیں۔ اللہ سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم اس کے احکام کو مانیں، اس کے رسول ﷺ کی پیروی کریں، اور اپنی زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھالیں۔ یاد رکھیں، جس دن ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے، اس دن صرف اللہ کی قوت کام آئے گی، نہ کوئی بت، نہ کوئی شخصیت، نہ کوئی دنیاوی طاقت۔ اس لیے آج ہی اپنی محبت اور اپنی زندگی کو اللہ کے لیے خالص کر لیں، تاکہ کل قیامت کے دن ہم کامیاب ہو سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 163-167 — بقرہ

163وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ
اور (لوگو) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
164إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
165وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
166إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ
اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں) عذاب (الہیٰ) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے
167وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
165آیت

ترجمہ — بقرہ 165

سورہ بقرہ آیت 165 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک…

سورہ آیت 165/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 163–167. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں