بقرہ · 26/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
۞ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ ۝٢٦
Innal laaha laa yastahyeee ai yadriba masalam maa ba`oodatan famaa fawqahaa; faammal lazeena aamanoo faya`lamoona annahul haqqu mir rabbihim wa ammal lazeena kafaroo fayaqooloona maazaaa araadal laahu bihaazaa masalaa; yudillu bihee kaseeranw wa yahdee bihee kaseeraa; wa maa yudillu biheee illal faasiqeen
📖 اردو ترجمہ
الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت 26 کی تفسیر

پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:

  • لَا يَسْتَحْيِي: شرم محسوس نہیں کرتا، یعنی حق بیان کرنے سے نہیں جھجکتا۔
  • يَضْرِبَ مَثَلًا: مثال بیان کرے، تشبیہ دے۔
  • بَعُوضَةً: مچھر۔
  • فَمَا فَوْقَهَا: اس سے بڑی چیز (یا اس سے چھوٹی چیز بھی مراد لی جا سکتی ہے
  • الْفَاسِقِينَ: نافرمان، حکم عدولی کرنے والے، راہِ حق سے ہٹ جانے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی کتابِ عزیز میں حق بیان کرنے سے کبھی شرم محسوس نہیں کرتا۔ وہ چاہے تو انتہائی چھوٹی چیز کی مثال دے، جیسے مچھر، مکھی، یا عنکبوت، یا اس سے بھی بڑی چیز کی — یہ سب اس کی حکمت و قدرت کا کھیل ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو سوچنے، غور کرنے اور حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دینا ہے۔

اب لوگ دو قسم کے ہیں:

پہلی قسم: مومن — وہ لوگ جو دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، وہ جانتے ہیں کہ یہ مثال اللہ کی طرف سے حق ہے، اس میں کوئی مذاق یا بے مقصد بات نہیں۔ وہ اسے غور سے سنتے ہیں، اس پر تدبر کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

دوسری قسم: کافر — وہ لوگ جو حق سے منہ موڑتے ہیں، وہ طنز و استہزاء کے انداز میں کہتے ہیں: "اللہ کو ایسی حقیر چیزوں کی مثال دینے سے کیا غرض؟" وہ اسے اپنی سمجھ سے بالاتر سمجھتے ہیں، حالانکہ اصل میں ان کی اپنی سمجھ محدود ہے۔

اللہ تعالیٰ خود جواب دیتے ہیں: اس مثال کے ذریعے اللہ بہت سے لوگوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت بخشتا ہے۔ یعنی یہ مثال ایک معیار ہے — جو دل سے حق قبول کرنے والا ہے، وہ اس سے سبق لیتا ہے اور ہدایت پاتا ہے؛ اور جو ضد اور تکبر پر اڑا ہوا ہے، وہ اسے ٹھکرا کر اور بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔

اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا۔ وہ صرف انہیں گمراہی میں چھوڑتا ہے جو خود فاسق ہیں — یعنی اللہ کے احکام سے نکل جانے والے، نافرمان لوگ۔ یہ ان کی اپنی کمائی ہے، اللہ کی طرف سے کوئی زیادتی نہیں۔


دعوتی انداز:

پیارے بھائیو اور بہنو! دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مچھر جیسی معمولی چیز کی مثال دے کر ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ حقارت اور بزرگی کسی مخلوق کے ظاہری حجم سے نہیں ہوتی، بلکہ اس میں چھپی ہوئی حکمت سے ہوتی ہے۔ جس طرح مچھر اپنے چھوٹے قد کے باوجود بڑے بڑے جانوروں کو تکلیف دے سکتا ہے، اسی طرح اللہ کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں۔

آج ہمیں چاہیے کہ ہر آیت، ہر مثال پر غور کریں، اسے مذاق نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ جو شخص قرآن کو سنجیدگی سے پڑھتا ہے، اس کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے، اور جو اسے حقیر سمجھتا ہے، وہ خود نقصان اٹھاتا ہے۔ اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 24-28 — بقرہ

24فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
25وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے
26۞ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو
27الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
28كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
26آیت

ترجمہ — بقرہ 26

سورہ بقرہ آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا…

سورہ آیت 26/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں