ترجمہ — Tafsir
آیت 26 کی تفسیر
پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:
- لَا يَسْتَحْيِي: شرم محسوس نہیں کرتا، یعنی حق بیان کرنے سے نہیں جھجکتا۔
- يَضْرِبَ مَثَلًا: مثال بیان کرے، تشبیہ دے۔
- بَعُوضَةً: مچھر۔
- فَمَا فَوْقَهَا: اس سے بڑی چیز (یا اس سے چھوٹی چیز بھی مراد لی جا سکتی ہے)۔
- الْفَاسِقِينَ: نافرمان، حکم عدولی کرنے والے، راہِ حق سے ہٹ جانے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی کتابِ عزیز میں حق بیان کرنے سے کبھی شرم محسوس نہیں کرتا۔ وہ چاہے تو انتہائی چھوٹی چیز کی مثال دے، جیسے مچھر، مکھی، یا عنکبوت، یا اس سے بھی بڑی چیز کی — یہ سب اس کی حکمت و قدرت کا کھیل ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو سوچنے، غور کرنے اور حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دینا ہے۔
اب لوگ دو قسم کے ہیں:
پہلی قسم: مومن — وہ لوگ جو دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، وہ جانتے ہیں کہ یہ مثال اللہ کی طرف سے حق ہے، اس میں کوئی مذاق یا بے مقصد بات نہیں۔ وہ اسے غور سے سنتے ہیں، اس پر تدبر کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری قسم: کافر — وہ لوگ جو حق سے منہ موڑتے ہیں، وہ طنز و استہزاء کے انداز میں کہتے ہیں: "اللہ کو ایسی حقیر چیزوں کی مثال دینے سے کیا غرض؟" وہ اسے اپنی سمجھ سے بالاتر سمجھتے ہیں، حالانکہ اصل میں ان کی اپنی سمجھ محدود ہے۔
اللہ تعالیٰ خود جواب دیتے ہیں: اس مثال کے ذریعے اللہ بہت سے لوگوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت بخشتا ہے۔ یعنی یہ مثال ایک معیار ہے — جو دل سے حق قبول کرنے والا ہے، وہ اس سے سبق لیتا ہے اور ہدایت پاتا ہے؛ اور جو ضد اور تکبر پر اڑا ہوا ہے، وہ اسے ٹھکرا کر اور بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔
اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا۔ وہ صرف انہیں گمراہی میں چھوڑتا ہے جو خود فاسق ہیں — یعنی اللہ کے احکام سے نکل جانے والے، نافرمان لوگ۔ یہ ان کی اپنی کمائی ہے، اللہ کی طرف سے کوئی زیادتی نہیں۔
دعوتی انداز:
پیارے بھائیو اور بہنو! دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مچھر جیسی معمولی چیز کی مثال دے کر ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ حقارت اور بزرگی کسی مخلوق کے ظاہری حجم سے نہیں ہوتی، بلکہ اس میں چھپی ہوئی حکمت سے ہوتی ہے۔ جس طرح مچھر اپنے چھوٹے قد کے باوجود بڑے بڑے جانوروں کو تکلیف دے سکتا ہے، اسی طرح اللہ کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں۔
آج ہمیں چاہیے کہ ہر آیت، ہر مثال پر غور کریں، اسے مذاق نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ جو شخص قرآن کو سنجیدگی سے پڑھتا ہے، اس کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے، اور جو اسے حقیر سمجھتا ہے، وہ خود نقصان اٹھاتا ہے۔ اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 26
سورہ بقرہ آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا…سورہ آیت 26/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








