بقرہ · 27/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ۝٢٧
Allazeena yanqudoona `ahdal laahi mim ba`di meesaaqihee wa yaqt`oona maaa amaral laahu biheee ai yoosala wa yufsidoona fil ard; ulaaa`ika hum khaasirron
📖 اردو ترجمہ
جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اپنے رب کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑ دیتے ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو اللہ نے تمام انسانوں سے لیا تھا جب انہیں پیدا کیا، یعنی یہ اقرار کہ اللہ ہی رب اور معبود ہے۔ اس عہد کی مضبوطی کے لیے اللہ نے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں تاکہ لوگ اس عہد پر قائم رہیں۔

اس آیت میں تین بڑی خرابیوں کا ذکر ہے:

  1. عہد شکنی: یہ لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑ دیتے ہیں، یعنی توحید اور اطاعت کا راستہ چھوڑ کر شرک اور نافرمانی اختیار کر لیتے ہیں۔
  2. قطع رحمی: یہ لوگ ان رشتوں کو توڑ دیتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، خاص طور پر رشتہ داری، ایمانی بھائی چارہ اور انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے کا سلسلہ۔
  3. زمین میں فساد: یہ لوگ معصیت اور گناہوں کے ذریعے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، لوگوں کو راہ راست سے روکتے ہیں اور اپنے اعمال سے معاشرے میں برائی کو فروغ دیتے ہیں۔

ان تینوں خرابیوں کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ ایسے لوگ حقیقی خسارے میں ہیں۔ یہ خسارہ صرف دنیا تک محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ اپنے انجام سے دوچار ہوں گے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کیے گئے عہد پر کس حد تک قائم ہیں؟ کیا ہم اپنے رشتوں کو جوڑتے ہیں یا توڑتے ہیں؟ کیا ہم زمین پر امن و اصلاح پھیلاتے ہیں یا فساد کا سبب بنتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ان برائیوں سے بچائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں، رشتے جوڑتے ہیں اور زمین میں اصلاح کرتے ہیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 25-29 — بقرہ

25وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے
26۞ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو
27الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
28كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
29هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
27آیت

ترجمہ — بقرہ 27

سورہ آیت 27/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں