ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- كَفَرُوا: جھلایا، انکار کیا، ناشکری کی۔
- كَذَّبُوا: جھٹلایا، جھوٹا قرار دیا۔
- بِآيَاتِنَا: ہماری نشانیوں کو، ہماری آیات کو (جو قرآن اور اللہ کی وحدانیت کی دلیلیں ہیں)۔
- أَصْحَابُ النَّارِ: دوزخ والے، جہنم میں رہنے والے۔
- خَالِدُونَ: ہمیشہ رہنے والے، دائمی طور پر قیام پذیر۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا انجام بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ "کفر" کا مطلب ہے حق کو جان بوجھ کر چھپانا اور اس کا انکار کرنا، اور "تکذیب" کا مطلب ہے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ صرف خود ایمان نہیں لائے بلکہ دوسروں کو بھی راہِ حق سے روکنے کی کوشش کی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی لوگ "اصحاب النار" ہیں، یعنی جہنم کے مستقل رہنے والے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ وہاں سے نکل سکیں گے اور نہ ہی انہیں موت آئے گی تاکہ عذاب سے چھٹکارا پا سکیں۔ یہ ان کا دائمی ٹھکانہ ہوگا، جیسا کہ مومنوں کے لیے جنت دائمی ہے۔
یہ آیت پچھلی آیت کا تکملہ ہے جہاں اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد سے عہد لینے کا ذکر کیا تھا۔ اب فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اس عہد کو توڑیں گے اور اللہ کی آیات کو جھٹلائیں گے، ان کا انجام جہنم ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے ایک زبردست نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی، سمجھ دی، اور قرآن جیسی کتاب نازل فرمائی جو ہر دور کے لیے ہدایت ہے۔ اللہ کی آیات پر غور کریں، انہیں پڑھیں اور سمجھیں۔ کفر اور تکذیب کا راستہ تباہی کا راستہ ہے، جبکہ ایمان اور عمل صالح کا راستہ کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ نے اپنی رحمت سے ہمیں قرآن جیسی نعمت عطا کی ہے، آئیے اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں اور اللہ کے عذاب سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 37-41 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 39
سورہ بقرہ آیت 39 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری…سورہ آیت 39/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








