بقرہ · 6/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۝٦
Innal lazeena kafaroo sawaaa`un `alaihim `a-anzar tahum am lam tunzirhum laa yu`minoon
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے
🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • كَفَرُوا: ایمان نہ لانا، حق کو چھپانا اور اللہ کی نازل کردہ چیزوں کا انکار کرنا۔
  • سَوَاءٌ: برابر، یکساں، مساوی۔
  • أَنذَرْتَهُمْ: انہیں ڈرایا، خوف دلایا، عذاب سے خبردار کیا۔
  • لَا يُؤْمِنُونَ: وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کی حقیقت سے آگاہ فرما رہے ہیں جنہوں نے کفر اور انکار کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو جانتے بوجھتے ہوئے رد کر دیا، اور اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ سے اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آپ کا ڈرانا اور خوف دلانا، یا نہ ڈرانا، دونوں برابر ہے۔ یعنی چاہے آپ انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں، یا پھر خاموش رہیں، ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ کوئی نصیحت انہیں بدل نہیں سکتی۔

یہ بات اللہ کے ابدی علم کے مطابق ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے، کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے کفر کا راستہ چنا اور حق کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ ان کے اپنے اعمال اور ان کی اپنی ضد کی وجہ سے کیا ہے، نہ کہ ظلم کے طور پر۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ ایمان وہ دولت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے، لیکن یہ صرف انہیں ملتی ہے جو حق کے سامنے سر جھکانے والے، اپنے غرور اور تکبر کو ختم کرنے والے، اور سچائی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ جو شخص اپنے تکبر اور ضد کی وجہ سے حق کو رد کرتا ہے، وہ اس عظیم دولت سے محروم رہتا ہے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو ہر قسم کے تکبر، حسد اور ضد سے پاک رکھیں، کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو ایمان کی دولت سے محروم کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے، اور قرآن و سنت کی روشنی بھی عطا کی ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں اور اپنے دلوں کو حق کے لیے کھلا رکھیں۔

یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے اور اپنے بندوں کی ہدایت چاہتا ہے، لیکن جو شخص خود ہی حق سے منہ موڑ لے، اس کے لیے کوئی چیز نفع نہیں دے سکتی۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی حلاوت سے سیراب فرمائے۔ آمین۔

📜 آیت 4-8 — بقرہ

4وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
5أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں
6إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے
7خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے
8وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
6آیت

ترجمہ — بقرہ 6

سورہ بقرہ آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ…

سورہ آیت 6/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں