Fa akalaa minhaa fabadat lahumaa saw aatuhumaa wa tafiqaa yakhsifaani `alaihimaa minw waraqil jannah; wa `asaaa Aadamu Rabbahoo faghawaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از آن درخت خوردند و شرمگاهشان در نظرشان پديدار شد. و همچنان برگ درختان بهشت بر آنها مىچسبانيدند. آدم در پروردگار خويش عاصى شد و راه گم كرد.
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سَوْآتُهُمَا: دونوں کی شرم گاہیں (عورتیں)۔
طَفِقَا: دونوں لگ گئے / شروع کر دیا۔
يَخْصِفَانِ: پتے جوڑ کر ایک دوسرے پر رکھنا، یعنی پتے سلائی کرنا۔
غَوَىٰ: گمراہ ہو گیا، راہِ راست سے بھٹک گیا، اپنے مقصد سے محروم ہو گیا۔
تفسیر:
جب آدم علیہ السلام اور حوا رضی اللہ عنہا نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا تھا، تو ان کی شرم گاہیں کھل گئیں جو پہلے چھپی ہوئی تھیں۔ یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ نافرمانی کے نتیجے میں ان کا پردہ اٹھ گیا۔ وہ دونوں شرمندہ ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر رکھنے لگے تاکہ اپنی شرم گاہوں کو چھپا سکیں۔ یہ ان کی فطرتِ سلیمہ کا تقاضا تھا کہ گناہ کے بعد فوراً شرم اور پشیمانی نے انہیں آ لیا۔
آدم علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اس درخت سے کھا کر گمراہی کا راستہ اختیار کیا، یعنی وہ اس مقصد سے بھٹک گئے جس کے لیے انہیں پیدا کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شیطان کا دشمنی بھرا انداز کتنا خطرناک ہے، وہ انسان کو بہکا کر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کر دیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی سبق ہے کہ گناہ کے بعد فوراً توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جیسا کہ آدم علیہ السلام نے بعد میں کیا۔
یہ واقعہ ہمارے لیے نصیحت ہے کہ ہم شیطان کے دھوکے سے بچیں، اللہ کے احکام پر عمل کریں، اور اگر کبھی خطا ہو جائے تو فوراً توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے اور توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ جنت کی لذت اور اللہ کی قربت کا حصول اسی راستے سے ممکن ہے جو آدم علیہ السلام کو سکھایا گیا تھا — عجز، انکسار اور اللہ کی طرف رجوع۔
تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہوں گے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔