طہ · 121/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ ۝١٢١
Fa akalaa minhaa fabadat lahumaa saw aatuhumaa wa tafiqaa yakhsifaani `alaihimaa minw waraqil jannah; wa `asaaa Aadamu Rabbahoo faghawaa
📖 اردو ترجمہ
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سَوْآتُهُمَا: دونوں کی شرم گاہیں (عورتیں
  • طَفِقَا: دونوں لگ گئے / شروع کر دیا۔
  • يَخْصِفَانِ: پتے جوڑ کر ایک دوسرے پر رکھنا، یعنی پتے سلائی کرنا۔
  • غَوَىٰ: گمراہ ہو گیا، راہِ راست سے بھٹک گیا، اپنے مقصد سے محروم ہو گیا۔

تفسیر:

جب آدم علیہ السلام اور حوا رضی اللہ عنہا نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا تھا، تو ان کی شرم گاہیں کھل گئیں جو پہلے چھپی ہوئی تھیں۔ یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ نافرمانی کے نتیجے میں ان کا پردہ اٹھ گیا۔ وہ دونوں شرمندہ ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر رکھنے لگے تاکہ اپنی شرم گاہوں کو چھپا سکیں۔ یہ ان کی فطرتِ سلیمہ کا تقاضا تھا کہ گناہ کے بعد فوراً شرم اور پشیمانی نے انہیں آ لیا۔

آدم علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اس درخت سے کھا کر گمراہی کا راستہ اختیار کیا، یعنی وہ اس مقصد سے بھٹک گئے جس کے لیے انہیں پیدا کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شیطان کا دشمنی بھرا انداز کتنا خطرناک ہے، وہ انسان کو بہکا کر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کر دیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی سبق ہے کہ گناہ کے بعد فوراً توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جیسا کہ آدم علیہ السلام نے بعد میں کیا۔

یہ واقعہ ہمارے لیے نصیحت ہے کہ ہم شیطان کے دھوکے سے بچیں، اللہ کے احکام پر عمل کریں، اور اگر کبھی خطا ہو جائے تو فوراً توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے اور توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ جنت کی لذت اور اللہ کی قربت کا حصول اسی راستے سے ممکن ہے جو آدم علیہ السلام کو سکھایا گیا تھا — عجز، انکسار اور اللہ کی طرف رجوع۔

🎧 سنیں

📜 آیت 119-123 — طہ

119وَأَنَّكَ لَا تَظْمَأُ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ
اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ
120فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ
تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
121فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
122ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ
پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی
123قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ
فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہوں گے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
121آیت

ترجمہ — طہ 121

سورہ طہ آیت 121 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو…

سورہ آیت 121/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 119–123. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں