طہ · 120/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ ۝١٢٠
Fa waswasa ilaihish Shaitaanu qaala yaaa Aadamu hal adulluka `alaa shajaratil khuldi wa mulkil laa yablaa
📖 اردو ترجمہ
تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ

معانی الفاظ:

  • فَوَسْوَسَ: چپکے سے ڈالا، دل میں ڈالا، خفیہ طریقے سے بہکایا۔
  • شَجَرَةِ الْخُلْدِ: وہ درخت جسے کھانے سے انسان ہمیشہ زندہ رہے، کبھی نہ مرے۔
  • مُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ: ایسی بادشاہت جو کبھی ختم نہ ہو، نہ پرانی ہو، نہ فنا ہو۔

تفسیر:

شیطان نے آدم علیہ السلام کو اپنے وسوسے کا نشانہ بنایا اور ان کے دل میں خفیہ طریقے سے یہ بات ڈالی۔ اس نے کہا: "اے آدم! کیا میں تمہیں وہ درخت نہ بتاؤں جسے کھانے سے تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور کبھی نہیں مرو گے؟ اور ایسی بادشاہت بھی حاصل کرو گے جو کبھی ختم نہیں ہوگی، نہ پرانی ہوگی اور نہ فنا ہوگی؟"

یہ شیطان کی بڑی چالاکی تھی کہ اس نے آدم علیہ السلام کو ایسی چیز کا لالچ دیا جو دراصل انہیں اللہ کے حکم سے دور لے جانے کا ذریعہ بنی۔ شیطان نے ان کے سامنے ابدی زندگی اور لازوال بادشاہت کا خواب دکھایا، حالانکہ جنت میں وہ پہلے ہی ہر نعمت سے بھرپور تھے۔ لیکن شیطان نے ان کی توجہ اس چیز کی طرف مبذول کرائی جو اللہ نے انہیں منع فرمائی تھی۔

یہ وسوسہ اس قدر پرکشش تھا کہ آدم علیہ السلام اس کے دھوکے میں آگئے، کیونکہ انسان فطرتاً لمبی عمر اور پائیدار حکومت کو پسند کرتا ہے۔ شیطان نے ان کی اس فطری خواہش کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور وہ ہمیشہ ہمیں اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہمیں دنیا کی ظاہری چمک دمک، لمبی عمر، مال و دولت اور عہدے کی لالچ دے کر اللہ کے حکم سے غافل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جو کچھ بھی حکم دیا ہے وہ ہمارے بھلے کے لیے ہے، اور جو چیز منع کی ہے اس میں ہمارے لیے نقصان ہی ہے۔

آدم علیہ السلام سے ہونے والی اس غلطی کے باوجود، اللہ نے انہیں معاف فرمایا اور توبہ کی توفیق دی۔ یہ اللہ کی رحمت کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ ہمیں بھی جب کبھی غلطی ہو جائے تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے اللہ کا ذکر، قرآن کی تلاوت اور سنت رسول ﷺ پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ مضبوط قلعہ ہے جو شیطان کے حملوں سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 118-122 — طہ

118إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ
یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے
119وَأَنَّكَ لَا تَظْمَأُ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ
اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ
120فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ
تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
121فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
122ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ
پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
120آیت

ترجمہ — طہ 120

سورہ طہ آیت 120 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور)…

سورہ آیت 120/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 118–122. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں