انبیاء · 45/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ ۝٤٥
Qul innamaaa unzirukum bilwahyi; wa laa yasma`us summud du`aaa`a izaa maa yunzaroon
📖 اردو ترجمہ
کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُنذِرُكُم: میں تمہیں ڈر سناتا ہوں، خبردار کرتا ہوں۔
  • بِالْوَحْيِ: اس وحی کے ذریعے جو اللہ تعالیٰ مجھ پر نازل کرتا ہے (یعنی قرآن مجید
  • الصُّمُّ: بہرے، وہ لوگ جو حق سننے سے محروم ہیں۔
  • الدُّعَاءَ: پکار، آواز، حق کی دعوت۔
  • إِذَا مَا يُنذَرُونَ: جب انہیں ڈرایا جاتا ہے۔

تفسیر:

اے نبی مکرم! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو آپ کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں اور آپ پر اعتراضات کرتے ہیں: "میں تمہیں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہہ رہا، نہ میں اپنے ذاتی علم یا رائے سے تمہیں ڈراتا ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کے ذریعے تمہیں خبردار کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھ پر نازل فرماتا ہے، اور وہ وحی قرآن کریم ہے۔ یہ قرآن ہی میرا معجزہ اور میری دلیل ہے۔"

پھر اللہ تعالیٰ ان کفار کی حالت بیان فرماتا ہے کہ یہ لوگ اس دعوتِ حق کو سننے کے باوجود اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے، کیونکہ ان کے دل بہرے ہو چکے ہیں۔ جب انہیں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ اسے سنتے ہی نہیں، یعنی سنتے تو ہیں لیکن اس طرح نہیں سنتے جس طرح سننے والا سمجھ کر سنتا ہے۔ وہ اس نصیحت سے بالکل اسی طرح بےبہرہ رہتے ہیں جیسے کوئی بہرا شخص پکارنے والے کی آواز نہیں سن سکتا۔

یہ ان لوگوں کی بدبختی ہے کہ ان کے کان ہیں مگر حق سننے کے لیے نہیں، آنکھیں ہیں مگر نشانیاں دیکھنے کے لیے نہیں، اور دل ہیں مگر سمجھنے کے لیے نہیں۔ وہ ڈر اور خوف کی کیفیت سے اس لیے محروم ہیں کہ انہوں نے اپنے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں قرآن کریم کو غور و فکر کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور اس کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن وہ کتاب ہے جو ہمیں جہنم کے عذاب سے ڈراتی ہے اور جنت کی خوشخبری دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو حق کے لیے کھلا رکھیں، اپنے کانوں کو قرآن کی آیات سننے کے لیے تیار رکھیں، اور اپنی آنکھوں کو اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے استعمال کریں۔ یاد رکھیں! جو شخص قرآن سن کر اس پر عمل نہیں کرتا، وہ اس بہرے شخص کی مانند ہے جو پکارنے والے کی آواز سن کر بھی اس کا جواب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!



📜 آیت 43-47 — انبیاء

43أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا ۚ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے
44بَلْ مَتَّعْنَا هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۗ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟
45قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں
46وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے
47وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
45آیت

ترجمہ — انبیاء 45

سورہ انبیاء آیت 45 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق…

سورہ آیت 45/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں