انبیاء · 46/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ۝٤٦
Wa la`im massat hum nafhatum min `azaabi Rabbika la yaqoolunna yaawailanaaa innnaa kunnaa zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَفْحَةٌ: ہلکی سی چھوٹ، ذرا سا عذاب، ایک جھلک۔
  • مَسَّتْهُمْ: انہیں چھو لے، پہنچ جائے۔
  • یَا وَیْلَنَا: ہائے ہماری تباہی! (عذاب کے وقت پکارا جانے والا کلمہ)

تفسیر آیت:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان کافروں اور منکروں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو عذابِ الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے اور جلدی جلدی اسے مانگتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر انہیں عذابِ الٰہی کا ایک معمولی سا حصہ بھی چھو جائے — چاہے وہ دنیا میں ہی کیوں نہ ہو — تو ان کی ساری شیخی اور بڑائی غائب ہو جائے گی، اور وہ اپنی بےبسی اور ندامت کا اعتراف کرتے ہوئے چلائیں گے: "ہائے ہماری تباہی! بےشک ہم ظالم تھے۔"

یعنی جب عذاب کا ذرا سا نمونہ بھی ان کے سامنے آ جائے گا، تو وہ اپنے شرک، اپنے کفر اور اپنے ظلم کا خود اعتراف کریں گے۔ یہ اعتراف اس وقت ان کے کسی کام نہ آئے گا، کیونکہ یہ اعتراف خوف اور مجبوری کی وجہ سے ہوگا، نہ کہ ایمان اور توبہ کی وجہ سے۔

یہ آیت ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈراتی ہے اور بتاتی ہے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، لیکن وہ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا بھی ہے۔ وہ جلدی عذاب نہیں بھیجتا تاکہ لوگ توبہ کر لیں۔ لیکن جب عذاب آ جائے گا تو پھر پچھتانا بیکار ہوگا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اپنے گناہوں پر فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ کہیں ہم بھی تو ظالموں میں شامل نہیں ہو رہے۔ اللہ نے ہم پر بہت رحم کیا ہے کہ اس نے ہمیں قرآن اور سنت دی، ہمیں عذاب سے پہلے ڈرایا تاکہ ہم سنبھل جائیں۔ آئیے ہم اللہ کی رحمت کا شکر ادا کریں اور اپنے گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں، تاکہ ہمیں اس دن کی رسوائی سے بچایا جائے جب ظالم پکاریں گے: "ہائے ہماری تباہی! ہم ظالم تھے۔" اللہ ہمیں عافیت دے اور ہمیں ظالموں میں شامل نہ کرے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 44-48 — انبیاء

44بَلْ مَتَّعْنَا هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۗ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟
45قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں
46وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے
47وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں
48وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
46آیت

ترجمہ — انبیاء 46

سورہ انبیاء آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب…

سورہ آیت 46/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں