حج · 54/78
ترجمہ تلفظ — حج
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝٥٤
Wa liya`lamal lazeena ootul `ilma annahul haqqu mir Rabbika fa yu`minoo bihee fatukhbita ahoo quloobuhum; wa innal laaha lahaadil lazeena aamanoo ilaa Siraatim Mustaqeem
📖 اردو ترجمہ
اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُوتُوا الْعِلْمَ: جن لوگوں کو علم دیا گیا (یعنی اہل علم و ایمان)
  • فَتُخْبِتَ: تو ان کے دل جھک جائیں، خشوع اختیار کریں، مطمئن اور نرم ہو جائیں
  • صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ: سیدھا راستہ، یعنی دینِ اسلام

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جان لیں کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، وہ حق ہے، آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، اور نہ ہی شیطان کی کوئی مداخلت اس میں ممکن ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو علم کی روشنی میں حق و باطل میں تمیز کرتے ہیں، اور ان کا علم انہیں اس حقیقت تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ کلام اللہ ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس یقین کے بعد ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے، اور ان کے دل اس قرآن کے سامنے جھک جاتے ہیں، خشوع اور خضوع اختیار کر لیتے ہیں، اور ان کے دل اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جو مومن کے دل کی پہچان ہے — کہ وہ اللہ کے کلام کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے، یعنی دین اسلام کی طرف رہنمائی فرماتا ہے، جو کہ صراطِ مستقیم ہے، جس میں کوئی کجی نہیں۔ یہ اللہ کا انعام ہے کہ وہ اپنے بندوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لے جاتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ علم حقیقی وہی ہے جو انسان کو اللہ کے کلام پر ایمان لانے میں مدد دے، اور اس کے دل کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ علم کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اس کی کتاب پر ایمان لائے، اور اس کے سامنے اپنے دل کو مطمئن کرے۔ جب دل اللہ کے کلام کے سامنے جھک جاتا ہے تو انسان کو سکون ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے۔ آئیے ہم بھی علم کو اپنے ایمان کی تقویت کا ذریعہ بنائیں، اور اپنے دلوں کو اللہ کے کلام کے سامنے جھکانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 52-56 — حج

52وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے
53لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ
غرض (اس سے) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائے۔ بےشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں
54وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
55وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ
اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر واقع ہو
56الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ
اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور ان میں فیصلہ کردے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے
حجقرآن فہرست
78آیت
مدنیRevelation
54آیت

ترجمہ — حج 54

سورہ حج آیت 54 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم…

سورہ آیت 54/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 52–56. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں