ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُوتُوا الْعِلْمَ: جن لوگوں کو علم دیا گیا (یعنی اہل علم و ایمان)
- فَتُخْبِتَ: تو ان کے دل جھک جائیں، خشوع اختیار کریں، مطمئن اور نرم ہو جائیں
- صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ: سیدھا راستہ، یعنی دینِ اسلام
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جان لیں کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، وہ حق ہے، آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، اور نہ ہی شیطان کی کوئی مداخلت اس میں ممکن ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو علم کی روشنی میں حق و باطل میں تمیز کرتے ہیں، اور ان کا علم انہیں اس حقیقت تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ کلام اللہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس یقین کے بعد ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے، اور ان کے دل اس قرآن کے سامنے جھک جاتے ہیں، خشوع اور خضوع اختیار کر لیتے ہیں، اور ان کے دل اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جو مومن کے دل کی پہچان ہے — کہ وہ اللہ کے کلام کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے، یعنی دین اسلام کی طرف رہنمائی فرماتا ہے، جو کہ صراطِ مستقیم ہے، جس میں کوئی کجی نہیں۔ یہ اللہ کا انعام ہے کہ وہ اپنے بندوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لے جاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ علم حقیقی وہی ہے جو انسان کو اللہ کے کلام پر ایمان لانے میں مدد دے، اور اس کے دل کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ علم کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اس کی کتاب پر ایمان لائے، اور اس کے سامنے اپنے دل کو مطمئن کرے۔ جب دل اللہ کے کلام کے سامنے جھک جاتا ہے تو انسان کو سکون ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے۔ آئیے ہم بھی علم کو اپنے ایمان کی تقویت کا ذریعہ بنائیں، اور اپنے دلوں کو اللہ کے کلام کے سامنے جھکانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 52-56 — حج
ترجمہ — حج 54
سورہ حج آیت 54 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم…سورہ آیت 54/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 52–56. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








