ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فِتْنَہ: آزمائش، امتحان۔
- مَرَض: (دل کی) بیماری، یعنی شک اور نفاق۔
- قَاسِیَۃ: سخت، جو حق قبول کرنے سے انکار کر دے۔
- شِقَاق: مخالفت، عداوت، حق سے دوری۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ شیطان جو کچھ (تلاوتِ قرآن کے دوران) ڈالتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بناتا ہے جن کے دلوں میں بیماری ہے، یعنی منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں شک اور نفاق کی خرابی ہے، نیز اُن لوگوں کے لیے بھی جن کے دل سخت ہو گئے ہیں، یعنی مشرکین جو حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور جن کے دلوں پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔
جب شیطان نے رسول اللہ ﷺ کی تلاوت میں (غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے) کچھ القاء کیا، تو منافقین اور مشرکین نے اسے غنیمت جانا اور آپ ﷺ پر الزام تراشی شروع کر دی۔ ان کے دلوں میں پہلے سے موجود شک اور عناد نے انہیں اس آزمائش میں مبتلا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اس لیے ہونے دیا تاکہ سچے مومن اور جھوٹے مدعی الگ ہو جائیں، اور ہر ایک کا اصل حال ظاہر ہو جائے۔
یہ آزمائش دراصل اللہ کی رحمت کا ایک مظہر ہے، کیونکہ اس سے اہلِ ایمان کے دلوں کا استحکام اور اہلِ نفاق کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ مومن تو اس سے اور زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں، جبکہ منافقین اور مشرکین اپنے کفر اور عناد میں مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ظالم لوگ، یعنی منافقین اور مشرکین، یقیناً اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شدید مخالفت میں مبتلا ہیں اور حق سے اتنے دور ہو گئے ہیں کہ ان کی یہ عداوت اور ضد انہیں کبھی سچائی کی طرف لوٹنے نہیں دے گی۔ یہ شقاق (مخالفت) انتہائی دور کی منزل ہے، جہاں سے واپسی تقریباً ناممکن ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے تاکہ ان کا ایمان حقیقی ہو، محض دعوے پر نہ ہو۔ جب بھی کوئی مشکل یا شبہ پیش آئے، ہمیں اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارا دل حق کے ساتھ ہے یا شک اور نفاق کی بیماری میں مبتلا ہے۔ مومن کا دل ہر آزمائش میں اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہی نجات کا ذریعہ ہیں۔
آئیے ہم اپنے دلوں کو شک، حسد اور عناد جیسی بیماریوں سے پاک کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ثابت قدم رکھے، کیونکہ جو لوگ حق سے دور ہو جاتے ہیں، ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 51-55 — حج
ترجمہ — حج 53
سورہ حج آیت 53 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : غرض (اس سے) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا…سورہ آیت 53/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








