ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مِرْيَةٍ: شک و تردد
- بَغْتَةً: اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے
- عَقِیم: وہ دن جس میں کوئی خیر نہ ہو، بے برکت دن
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کافروں کی اس ضد اور ہٹ دھرمی کا ذکر فرما رہے ہیں جو انہیں ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل رہی ہے۔ کافر لوگ نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والے قرآن کے بارے میں ہمیشہ شک اور تردد میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ نہ تو اسے مانتے ہیں اور نہ ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا یہ حال برابر جاری رہتا ہے، چاہے ان کے سامنے کتنے ہی دلائل پیش کر دیے جائیں، وہ اپنے شکوک میں ڈوبے رہتے ہیں۔
یہ شک و شبہ انہیں اس وقت تک چھوڑے گا نہیں جب تک کہ قیامت اچانک ان کے پاس نہ آ جائے، یا انہیں اس دن کا عذاب نہ آ پکڑے جس میں کوئی بھلائی نہیں، یعنی قیامت کا دن۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں "یوم عظیم" سے مراد غزوہ بدر کا دن بھی ہے، جب کافروں کو ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ کافر لوگ اپنی ضد اور تکبر کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے، اور یہی ضد انہیں تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو شکوک و شبہات سے پاک رکھیں، کیونکہ شک انسان کو ہلاکت کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ قرآن ہمارے لیے ہدایت اور رحمت ہے، اس پر یقین رکھنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یقین کامل عطا فرمائے اور شکوک و شبہات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 53-57 — حج
ترجمہ — حج 55
سورہ حج آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے…سورہ آیت 55/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








