ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متقیوں کی چند نمایاں صفات بیان فرمائی ہیں، جو جنت کی راہ دکھاتی ہیں۔
معانی الفاظ:
- السَّرَّاء: خوشحالی، آسانی اور فراخی کا وقت
- الضَّرَّاء: تنگی، سختی اور مشکل کا وقت
- الْكَاظِمِينَ: غیظ و غصہ کو پی جانے والے، اپنے غصے کو قابو میں رکھنے والے
- الْغَيْظَ: شدید غصہ جو دل کو بھر دے
- الْعَافِينَ: معاف کرنے والے، درگزر کرنے والے
- الْمُحْسِنِينَ: احسان کرنے والے، بہترین اخلاق والے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں متقیوں کے ان اوصاف کا ذکر فرما رہے ہیں جو انہیں جنت کے قریب لے جاتے ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشحالی میں بھی اور تنگی میں بھی۔ یعنی ان کا خرچ صرف اس وقت تک محدود نہیں جب وہ خوشحال ہوں، بلکہ وہ اللہ کی راہ میں اس وقت بھی خرچ کرتے ہیں جب ان پر سختی اور تنگی کے حالات آتے ہیں۔ یہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور اللہ پر کامل بھروسے کی دلیل ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اسے کبھی محروم نہیں رکھتا۔
دوسری صفت یہ ہے کہ وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں۔ یعنی جب انہیں کسی سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور ان کا دل غصے سے بھر جاتا ہے، تو وہ اس غصے کو باہر نہیں نکلنے دیتے، بلکہ اسے اپنے سینے میں دبا لیتے ہیں اور صبر سے کام لیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی فضیلت ہے، کیونکہ غصہ شیطان کی طرف سے آتا ہے اور اس پر قابو پانا ہی اصل مجاہدہ ہے۔
تیسری صفت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ یعنی جب وہ اپنے ظالموں پر قدرت پاتے ہیں، تو انتقام لینے کے بجائے انہیں معاف کر دیتے ہیں۔ یہ درگزر ان کی بلند اخلاقی اور وسعتِ قلبی کی علامت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ معاف کرنے میں ہی اللہ کی رضا اور دل کی پاکیزگی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ محسنوں سے محبت کرتا ہے۔ یعنی یہ سب صفات دراصل احسان ہے، اور اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو احسان کرنے والے ہیں۔ یہ اللہ کی محبت کا وعدہ ہے جو ان بندوں کے لیے ہے جو یہ خوبیاں اپناتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانوں! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی صرف نماز اور روزے سے نہیں، بلکہ اخلاقِ حسنہ سے بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے محبت کرے، تو ہمیں یہ تین کام کرنے ہوں گے: خوشحالی اور تنگی دونوں حالتوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، غصے کو پی جانا، اور لوگوں کو معاف کر دینا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت تک پہنچاتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں ان صفات کو اپنانے کی کوشش کریں، تاکہ ہم اللہ کے محبوب بندوں میں شامل ہو سکیں۔
📜 آیت 132-136 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 134
سورہ آل عمران آیت 134 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ…سورہ آیت 134/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 132–136. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








