ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَاحِشَةً: بہت بڑا گناہ، جیسے زنا، چوری، شراب نوشی وغیرہ۔
- ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ: اپنی جانوں پر ظلم کرنا، یعنی چھوٹے گناہوں کا ارتکاب کرنا۔
- ذَكَرُوا اللَّهَ: اللہ کو یاد کیا، یعنی اس کے وعدے اور وعید کو یاد کیا۔
- فَاسْتَغْفَرُوا: مغفرت طلب کی، معافی مانگی۔
- لَمْ يُصِرُّوا: اصرار نہیں کیا، یعنی گناہ پر قائم نہیں رہے۔
- وَهُمْ يَعْلَمُونَ: اور وہ جانتے ہوئے (کہ یہ گناہ ہے اور اللہ معاف کرنے والا ہے)۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان متقیوں اور نیک بندوں کی صفت بیان کرتی ہے جو اللہ کے محبوب اور پسندیدہ بندے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب وہ کوئی بڑا گناہ کر بیٹھتے ہیں، جیسے زنا یا کوئی اور فحش کام، یا اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں، یعنی چھوٹے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں، تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے وعدے اور وعید کو یاد کرتے ہیں، اس کی رحمت اور اس کے عذاب کو ذہن میں لاتے ہیں، اور پھر اپنے رب کے سامنے جھک کر توبہ کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔
وہ خوب جانتے ہیں کہ گناہوں کو معاف کرنے والا صرف اللہ ہے، کوئی اور نہیں۔ اس لیے وہ اپنی ساری امید اللہ کی رحمت پر لگاتے ہیں اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ان کی یہ کیفیت نہایت خوبصورت ہے کہ وہ گناہ کے بعد مایوس نہیں ہوتے، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی رحمت ان کے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کی ایک اور خوبی بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتے، یعنی وہ گناہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر قائم نہیں رہتے، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ گناہ ہے اور اللہ معاف کرنے والا ہے۔ وہ جان بوجھ کر گناہ پر اڑے نہیں رہتے، بلکہ توبہ کر کے سیدھے راستے پر آ جاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بہت بڑی خوشخبری دیتا ہے کہ اس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ چاہے بندہ کتنا ہی بڑا گناہ کر بیٹھے، اگر وہ خلوص دل سے توبہ کرے اور اللہ سے معافی مانگے تو اللہ اسے ضرور معاف فرما دیتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت کا کمال ہے کہ وہ اپنے بندوں سے کہتا ہے: "میرے بندو! تم نے گناہ کیا ہے تو مایوس نہ ہو، میری طرف رجوع کرو، میں تمہیں معاف کر دوں گا۔"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ گناہ کے بعد سب سے بہترین عمل یہ ہے کہ فوراً اللہ کو یاد کریں، اس سے معافی مانگیں، اور گناہ کو چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے جو گناہ کے بعد توبہ کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ہر انسان خطاکار ہے، اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہوں۔" (ترمذی)
لہٰذا ہمیں کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر گناہ کے بعد فوراً توبہ کرنی چاہیے اور اللہ سے معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
📜 آیت 133-137 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 135
سورہ آل عمران آیت 135 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق…سورہ آیت 135/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 133–137. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








