ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَمْ حَسِبْتُمْ: کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟
- وَلَمَّا یَعْلَمِ اللَّهُ: جب تک اللہ تعالیٰ (تمہارے حالات کو) ظاہر نہ کر لے۔
- الَّذِینَ جَاهَدُوا مِنکُمْ: تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔
- الصَّابِرِینَ: صبر کرنے والے۔
تفسیر:
اے ایمان والو! کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے، جبکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے ایمان کی حقیقت کو آزمایا ہی نہیں؟ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جنت کا راستہ آسان نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں، مشقتیں جھیلنی پڑتی ہیں اور صبر کا دامن نہیں چھوڑنا پڑتا۔
یہ آیت مبارکہ مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر رہی ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنا کافی نہیں، بلکہ اس دعوے کو عملی طور پر ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کون سچے دل سے جہاد کرتا ہے اور کون صرف زبانی دعوے کرتا ہے۔ جہاد سے مراد صرف جنگی میدان میں لڑنا ہی نہیں، بلکہ اپنے نفس سے لڑنا، اپنی خواہشات کو دبانا، اللہ کی راہ میں اپنا مال اور وقت خرچ کرنا، اور مشکلات پر صبر کرنا بھی جہاد ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دراصل اہل ایمان کے لیے ایک تربیتی پیغام ہے کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، مشکلات کا سامنا کریں اور صبر کا مظاہرہ کریں۔ جنت کی راہ میں کانٹے بچھے ہیں، لیکن یہی کانٹے ایمان کی پختگی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب کوئی بندہ اللہ کی راہ میں صبر کرتا ہے اور جہاد کرتا ہے تو اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور وہ اللہ کی خاص رحمت کا مستحق بنتا ہے۔
یاد رکھو! اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے حال سے خوب واقف ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہارا ایمان عملی طور پر ظاہر ہو، تاکہ تمہارے درجات بلند ہوں اور تم جنت کی اعلیٰ منازل حاصل کرو۔ لہٰذا اے مسلمانو! صبر اور جہاد کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤ، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو تمہیں اللہ کی رضا اور جنت کی نعمتوں تک پہنچائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے صابر اور مجاہد بندوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں کبھی ناکام نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 140-144 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 142
سورہ آیت 142/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 140–144. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








