آل عمران · 20/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ۝٢٠
Fa in haaajjooka faqul aslamtu wajhiya lillaahi wa manit taba`an; wa qul lillazeena ootul Kitaaba wal ummiyyeena `a-aslamtum; fa in aslamoo faqadih tadaw wa in tawallaw fa innamaa `alaikal balaagh; wallaahu baseerum bil `ibaad
📖 اردو ترجمہ
اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حاجّوک: یعنی آپ سے جھگڑا کریں، بحث و مباحثہ کریں۔
  • أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ: میں نے اپنا چہرہ (اپنی پوری ذات) اللہ کے تابع کر دیا، یعنی خالص عبادت اور مکمل اطاعت اللہ کے لیے کر دی۔
  • الْأُمِّيِّينَ: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے مقابلے میں وہ لوگ جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی، خاص طور پر مشرکین عرب۔
  • تَوَلَّوْا: منہ موڑ لیں، قبول کرنے سے انکار کر دیں۔
  • الْبَلَاغُ: پیغام پہنچا دینا، تبلیغ کر دینا۔

تفسیر:

اے محبوب نبی! جب اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) آپ سے دینِ حق کے بارے میں جھگڑا کریں اور آپ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے بے جا حجتیں پیش کریں، تو آپ انہیں کوئی پیچیدہ جواب دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیں: "میں نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے" یعنی میں نے اپنی پوری ذات، اپنی عبادت، اپنی زندگی اور اپنی موت سب کچھ خالص اللہ کے لیے کر دیا ہے، اور میرے سچے پیروکار بھی اسی طرح اللہ کے تابع فرمان ہیں۔ یہ وہ سادہ اور فطری راستہ ہے جو تمام انبیاء کا راستہ رہا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور امّیوں (مشرکین عرب) سے یہ سوال کریں: "کیا تم بھی اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہو؟" یعنی کیا تم بھی اسی طرح خالص ہو کر اللہ کی اطاعت قبول کرتے ہو؟ یہ سوال دراصل ایک دعوت ہے، ایک چیلنج ہے جو ان کے دلوں کو جھنجوڑتا ہے۔

اگر وہ اس دعوت کو قبول کر لیں اور اسلام لے آئیں، تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے، کیونکہ انہوں نے گمراہی سے نکل کر سیدھے راستے کو اختیار کر لیا۔ اور اگر وہ منہ موڑ لیں اور حق قبول کرنے سے انکار کر دیں، تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں، آپ کا فرض صرف پیغام پہنچا دینا ہے، ہدایت دینا آپ کا کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے، وہ جانتا ہے کہ کون حق قبول کرنے والا ہے اور کون انکار کرنے والا، اور وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ دعوتِ دین کا اصل مقصد لوگوں کو جیتنا نہیں بلکہ حق پہنچا دینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال اور اپنی زندگی سے ثابت کریں کہ ہم نے اپنا چہرہ اللہ کی طرف کر لیا ہے، اور پھر نرمی اور حکمت کے ساتھ لوگوں کو اس راستے کی دعوت دیں۔ اگر لوگ قبول کریں تو یہ اللہ کا فضل ہے، اور اگر انکار کریں تو ہماری ذمہ داری صرف تبلیغ ہے، نتیجہ اللہ کے حوالے ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے دلوں کی حالت سے بخوبی واقف ہے، اور وہی ہدایت دینے والا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 18-22 — آل عمران

18شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
19إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے
20فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے
21إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو
22أُولَٰئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ
یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ہوگا)
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
20آیت

ترجمہ — آل عمران 20

سورہ آل عمران آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو…

سورہ آیت 20/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں