ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حاجّوک: یعنی آپ سے جھگڑا کریں، بحث و مباحثہ کریں۔
- أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ: میں نے اپنا چہرہ (اپنی پوری ذات) اللہ کے تابع کر دیا، یعنی خالص عبادت اور مکمل اطاعت اللہ کے لیے کر دی۔
- الْأُمِّيِّينَ: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے مقابلے میں وہ لوگ جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی، خاص طور پر مشرکین عرب۔
- تَوَلَّوْا: منہ موڑ لیں، قبول کرنے سے انکار کر دیں۔
- الْبَلَاغُ: پیغام پہنچا دینا، تبلیغ کر دینا۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! جب اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) آپ سے دینِ حق کے بارے میں جھگڑا کریں اور آپ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے بے جا حجتیں پیش کریں، تو آپ انہیں کوئی پیچیدہ جواب دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیں: "میں نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے" یعنی میں نے اپنی پوری ذات، اپنی عبادت، اپنی زندگی اور اپنی موت سب کچھ خالص اللہ کے لیے کر دیا ہے، اور میرے سچے پیروکار بھی اسی طرح اللہ کے تابع فرمان ہیں۔ یہ وہ سادہ اور فطری راستہ ہے جو تمام انبیاء کا راستہ رہا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور امّیوں (مشرکین عرب) سے یہ سوال کریں: "کیا تم بھی اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہو؟" یعنی کیا تم بھی اسی طرح خالص ہو کر اللہ کی اطاعت قبول کرتے ہو؟ یہ سوال دراصل ایک دعوت ہے، ایک چیلنج ہے جو ان کے دلوں کو جھنجوڑتا ہے۔
اگر وہ اس دعوت کو قبول کر لیں اور اسلام لے آئیں، تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے، کیونکہ انہوں نے گمراہی سے نکل کر سیدھے راستے کو اختیار کر لیا۔ اور اگر وہ منہ موڑ لیں اور حق قبول کرنے سے انکار کر دیں، تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں، آپ کا فرض صرف پیغام پہنچا دینا ہے، ہدایت دینا آپ کا کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے، وہ جانتا ہے کہ کون حق قبول کرنے والا ہے اور کون انکار کرنے والا، اور وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ دعوتِ دین کا اصل مقصد لوگوں کو جیتنا نہیں بلکہ حق پہنچا دینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال اور اپنی زندگی سے ثابت کریں کہ ہم نے اپنا چہرہ اللہ کی طرف کر لیا ہے، اور پھر نرمی اور حکمت کے ساتھ لوگوں کو اس راستے کی دعوت دیں۔ اگر لوگ قبول کریں تو یہ اللہ کا فضل ہے، اور اگر انکار کریں تو ہماری ذمہ داری صرف تبلیغ ہے، نتیجہ اللہ کے حوالے ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے دلوں کی حالت سے بخوبی واقف ہے، اور وہی ہدایت دینے والا ہے۔
📜 آیت 18-22 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 20
سورہ آل عمران آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو…سورہ آیت 20/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








