کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سِیرُوا فِي الْأَرْضِ: زمین میں چلو پھرو، سفر کرو۔
عَاقِبَةُ: انجام، نتیجہ۔
مُشْرِکِینَ: وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو آپ کے لائے ہوئے پیغامِ حق کو جھٹلا رہے ہیں کہ تم زمین میں چلو پھرو اور غور و فکر کے ساتھ دیکھو کہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا انجام کیا ہوا؟ جنہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا، جیسے قومِ نوح، عاد، ثمود اور دیگر امتیں۔ ان کی بستیاں اجڑی ہوئی ہیں، ان کے گھر ویران پڑے ہیں، اور ان کا انجام بدترین تھا۔ وہ سب کے سب اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے تھے، اور یہی شرک ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں تاریخ سے سبق لینے کی تلقین کرتی ہے۔ زمین کے کھنڈرات اور تباہ شدہ بستیاں خود بولتی ہیں کہ اللہ کا عذاب حق ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے۔ جو قومیں اللہ کی توحید سے منہ موڑ کر شرک میں مبتلا ہوئیں، ان کا انجام عبرتناک رہا۔ آج بھی جو لوگ ان آیات پر غور کریں گے، وہ سمجھ جائیں گے کہ نجات صرف اللہ کی عبادت اور اس کے رسول کی اتباع میں ہے۔ یہ دعوت ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے آثارِ قدیمہ اور تاریخ کے صفحات سے سبق حاصل کریں، کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے، اور وہ ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ جو شخص ان نشانیوں پر غور کرے گا، اس کا ایمان مضبوط ہوگا اور وہ شرک اور گناہوں سے بچنے کی توفیق پائے گا۔ اللہ ہمیں تاریخ سے سبق لینے اور توحید پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔