احزاب · 37/73
ترجمہ تلفظ — احزاب
وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا ۝٣٧
Wa iz taqoolu lillazeee an`amal laahu `alaihi wa an`amta `alaihi amsik `alaika zawjaka wattaqil laaha wa tukhfee fee nafsika mal laahu mubdeehi wa takhshan naasa wallaahu ahaqqu an takhshaah; falammaa qadaa Zaidum minhaa wataran zawwajnaa kahaa likay laa yakoona `alal mu`mineena harajun feee azwaaji ad`iyaaa`ihim izaa qadaw minhunna wataraa; wa kaana amrul laahi af`oolaa
📖 اردو ترجمہ
اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے۔ حالانکہ خدا ہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے اپنی حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے۔ اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ: جس پر اللہ نے احسان کیا (یعنی اسلام کی نعمت دی
  • وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ: اور تم نے بھی اس پر احسان کیا (یعنی اسے آزاد کیا
  • أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ: اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو، اسے طلاق نہ دو۔
  • وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ: تم اپنے دل میں وہ بات چھپاتے ہو۔
  • مُبْدِيهِ: اسے ظاہر کرنے والا۔
  • وَطَرًا: حاجت، خواہش، مقصد۔
  • أَدْعِيَائِهِمْ: جنہیں لوگ اپنے بیٹے بناتے تھے (منہ بولے بیٹے
  • حَرَجٌ: تنگی، گناہ، رکاوٹ۔

تفسیر:

اے نبی مکرم! اس وقت کو یاد کرو جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے احسان کیا (اسلام کی نعمت سے نوازا) اور تم نے بھی احسان کیا (غلامی سے آزاد کر کے) — یعنی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ — کہ اپنی بیوی زینب بنت جحش کو اپنے پاس رکھو اور اسے طلاق نہ دو، اور اللہ سے ڈرو۔ یہ اس وقت تھا جب زید رضی اللہ عنہ نے آ کر آپ سے مشورہ کیا کہ وہ زینب کو طلاق دینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے درمیان مزاج کی مناسبت نہیں تھی۔

اور اے نبی! تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جو اللہ تمہیں ظاہر کرنے والا تھا — یعنی یہ کہ زینب عنقریب تمہاری زوجہ بنیں گی، یہ اللہ کی طرف سے تمہیں بتایا جا چکا تھا — لیکن تم لوگوں کی رائے کا خیال کر رہے تھے، ڈرتے تھے کہ منافق اور یہودی کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر لی، حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو، نہ کہ لوگوں سے۔

پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی، یعنی اسے طلاق دے دی اور عدت گزر گئی، تو ہم نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔ یہ اس لیے کہ مؤمنین پر کوئی تنگی اور گناہ نہ ہو کہ وہ اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں سے نکاح کریں جب وہ ان سے فارغ ہو چکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو ہو کر رہنے والا ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

اس واقعہ میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی تعلیم ہے کہ جاہلیت کی رسم تھی کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ دیا جاتا تھا، اور اس کی بیوی سے شادی کو حرام سمجھا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اس رسم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور واضح کر دیا کہ دین میں اصل تعلق نسب سے ہے، نہ کہ تبنّی (منہ بولے بیٹے) سے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں لوگوں کی رائے کی پروا نہیں کرنی چاہیے، اور نہ ہی کسی کی خوشامد کے لیے حق کو چھپانا چاہیے۔ اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اور اس کی رضا ہی اصل مقصود ہے۔ آج بھی جب کوئی مسلمان اللہ کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اسے لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن کامیابی اسی میں ہے کہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھا جائے۔

یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی اطاعت شعاری کا بھی ثبوت ہے کہ آپ نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی، چاہے لوگ کچھ بھی کہیں۔ اور یہ امت کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ حق کو ہمیشہ بلند آواز سے کہنا چاہیے، اور اللہ کی خوشنودی کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہیے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 35-39 — احزاب

35إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے
36وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا
37وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا
اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے۔ حالانکہ خدا ہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے اپنی حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے۔ اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا
38مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا
پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے
39الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ حَسِيبًا
اور جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ اور خدا ہی حساب کرنے کو کافی ہے
احزابقرآن فہرست
73آیت
مدنیRevelation
37آیت

ترجمہ — احزاب 37

سورہ احزاب آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے…

سورہ آیت 37/73 — احزاب الأحزاب (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احزاب سنیں, احزاب ترجمہ, احزاب mp3, احزاب pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں