ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ: جس پر اللہ نے احسان کیا (یعنی اسلام کی نعمت دی)۔
- وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ: اور تم نے بھی اس پر احسان کیا (یعنی اسے آزاد کیا)۔
- أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ: اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو، اسے طلاق نہ دو۔
- وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ: تم اپنے دل میں وہ بات چھپاتے ہو۔
- مُبْدِيهِ: اسے ظاہر کرنے والا۔
- وَطَرًا: حاجت، خواہش، مقصد۔
- أَدْعِيَائِهِمْ: جنہیں لوگ اپنے بیٹے بناتے تھے (منہ بولے بیٹے)۔
- حَرَجٌ: تنگی، گناہ، رکاوٹ۔
تفسیر:
اے نبی مکرم! اس وقت کو یاد کرو جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے احسان کیا (اسلام کی نعمت سے نوازا) اور تم نے بھی احسان کیا (غلامی سے آزاد کر کے) — یعنی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ — کہ اپنی بیوی زینب بنت جحش کو اپنے پاس رکھو اور اسے طلاق نہ دو، اور اللہ سے ڈرو۔ یہ اس وقت تھا جب زید رضی اللہ عنہ نے آ کر آپ سے مشورہ کیا کہ وہ زینب کو طلاق دینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے درمیان مزاج کی مناسبت نہیں تھی۔
اور اے نبی! تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جو اللہ تمہیں ظاہر کرنے والا تھا — یعنی یہ کہ زینب عنقریب تمہاری زوجہ بنیں گی، یہ اللہ کی طرف سے تمہیں بتایا جا چکا تھا — لیکن تم لوگوں کی رائے کا خیال کر رہے تھے، ڈرتے تھے کہ منافق اور یہودی کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر لی، حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو، نہ کہ لوگوں سے۔
پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی، یعنی اسے طلاق دے دی اور عدت گزر گئی، تو ہم نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔ یہ اس لیے کہ مؤمنین پر کوئی تنگی اور گناہ نہ ہو کہ وہ اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں سے نکاح کریں جب وہ ان سے فارغ ہو چکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو ہو کر رہنے والا ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
اس واقعہ میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی تعلیم ہے کہ جاہلیت کی رسم تھی کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ دیا جاتا تھا، اور اس کی بیوی سے شادی کو حرام سمجھا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اس رسم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور واضح کر دیا کہ دین میں اصل تعلق نسب سے ہے، نہ کہ تبنّی (منہ بولے بیٹے) سے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں لوگوں کی رائے کی پروا نہیں کرنی چاہیے، اور نہ ہی کسی کی خوشامد کے لیے حق کو چھپانا چاہیے۔ اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اور اس کی رضا ہی اصل مقصود ہے۔ آج بھی جب کوئی مسلمان اللہ کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اسے لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن کامیابی اسی میں ہے کہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھا جائے۔
یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی اطاعت شعاری کا بھی ثبوت ہے کہ آپ نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی، چاہے لوگ کچھ بھی کہیں۔ اور یہ امت کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ حق کو ہمیشہ بلند آواز سے کہنا چاہیے، اور اللہ کی خوشنودی کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہیے۔
📜 آیت 35-39 — احزاب
ترجمہ — احزاب 37
سورہ احزاب آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے…سورہ آیت 37/73 — احزاب الأحزاب (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احزاب سنیں, احزاب ترجمہ, احزاب mp3, احزاب pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








