Maa kaana `alan nabiyyyi min harajin feemaa faradal laahu lahoo sunnatal laahi fil lazeena khalaw min qabl; wa kaana amrul laahi qadaram maqdooraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بر پيامبر در انجام دادن آنچه خدا بر او مقرر كرده است حرجى نيست، همچنان كه خدا براى پيامبران پيشين نيز چنين سنتى نهاده بود و فرمان خدا فرمانى است بىهيچ زياده و نقصان.
فَرَضَ اللہُ لَهُ: جسے اللہ نے اس کے لیے حلال کیا۔
سُنَّتَ اللہِ: اللہ کا طریقہ اور دستور۔
خَلَوْا مِن قَبْلُ: جو پہلے گزر چکے ہیں (یعنی انبیاء علیہم السلام)۔
قَدَرًا مَّقْدُورًا: طے شدہ تقدیر، لکھا ہوا فیصلہ۔
تفسیرِ آیات:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب، نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور اطمینان عطا فرما رہے ہیں۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مطلقہ زوجہ سے نکاح کیا، جو آپ کے منہ بولے بیٹے تھے۔ اس پر منافقین اور مخالفین نے اعتراضات کیے، حالانکہ یہ نکاح اللہ تعالیٰ کے واضح حکم سے ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس میں کوئی مضائقہ، گناہ یا تنگی نہیں جو اللہ نے ان کے لیے حلال فرمایا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اللہ کا قائم شدہ دستور ہے جو پہلے گزرے ہوئے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی جاری رہا۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام جیسے انبیاء کی کثرتِ ازواج تھی، اور یہ ان کے لیے باعثِ عظمت تھا، نہ کہ باعثِ عتاب۔
پھر فرمایا: "اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ تقدیر ہے" یعنی جو کچھ اللہ نے مقدر فرمایا، وہ ضرور واقع ہو کر رہتا ہے۔ اس نکاح کی حکمت یہ تھی کہ جاہلیت کا دستورِ تبنّی (منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا ماننا) ختم ہو، اور یہ واضح ہو کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح جائز ہے، تاکہ امت کے لیے آسانی پیدا ہو۔ یہ اللہ کا فیصلہ تھا جو کسی بھی حال میں ٹلنے والا نہیں تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا حکم دے، تو بندے کو چاہیے کہ وہ بلا جھجک اس پر عمل کرے، چاہے لوگ کچھ بھی کہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم پر عمل کیا اور دنیا کی پرواہ نہ کی۔ آج ہمیں بھی چاہیے کہ حق بات پر مضبوط رہیں، چاہے مخالفت ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کے فیصلوں میں ہمیشہ بندے کے لیے بھلائی ہوتی ہے، چاہے وہ پہلی نظر میں سمجھ نہ آئے۔ تیسرا یہ کہ امتِ محمدیہ کے لیے آسانیاں پیدا کرنا مقصود ہے، اور یہ دین ہر دور کے حالات کے مطابق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ہر قسم کے اعتراضات سے پاک رکھا اور انہیں اسوۂ حسنہ بنایا، تاکہ ہم ان کی پیروی کریں اور ان کے راستے پر چلیں۔ یہی کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے۔
پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا
اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے۔ حالانکہ خدا ہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے اپنی حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے۔ اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا
پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے
محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔