کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کرکے اس کی بندگی کروں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُمِرْتُ: مجھے حکم دیا گیا ہے۔
مُخْلِصًا لَّهُ الدِّینَ: دین کو خالص صرف اسی کے لیے کرتے ہوئے، یعنی عبادت اور اطاعت میں کسی کو شریک نہ کرنا۔
تفسیر:
اے نبی! آپ لوگوں سے فرما دیجیے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کروں، اور اپنے دین کو خالص صرف اسی کے لیے رکھوں۔ یعنی میری نماز، میری دعا، میرا ذبح، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ صرف اللہ کے لیے ہو، اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہ ہو۔ یہی توحید ہے جس کی دعوت دینے کے لیے تمام انبیاء مبعوث ہوئے۔
یہ حکم صرف نبی کریم ﷺ کے لیے نہیں، بلکہ آپ کی امت کے لیے بھی ہے کہ ہر مسلمان اپنی عبادت کو خالص اللہ کے لیے کرے، ریاکاری اور دکھاوے سے پاک رکھے، اور شرک کے تمام رنگوں سے بچے۔ جب بندہ اپنے رب کے سامنے اپنے دل کو خالص کر لیتا ہے، تو اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے، اس کے رزق میں برکت دیتا ہے، اور اس کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کا اصل جوہر اخلاص ہے۔ جس عمل میں اخلاص نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی بڑا عمل کیوں نہ ہو۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، اور اپنے دلوں کو شرک اور نفاق کی آلودگی سے پاک رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور نجات تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں
کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین کشادہ ہے۔ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بےشمار ثواب ملے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔