Wa qaala rajulum mu`minummin Aali Fir`awna yaktumu eemaanahooo ataqtuloona rajulan ai yaqoola Rabbi yal laahu wa qad jaaa`akum bil haiyinaati mir Rabbikum wa iny yaku kaaziban fa`alaihi kazi buhoo wa iny yaku saadiqany yasibkum ba`dul lazee ya`idukum innal laaha laa yahdee man huwa musrifun kaazaab
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و مردى مؤمن از خاندان فرعون كه ايمانش را پنهان داشته بود، گفت: آيا مردى را كه مىگويد كه پروردگار من خداى يكتاست و با دليلهايى روشن از جانب پروردگارتان آمده است، مىكشيد؟ اگر دروغ مىگويد، گناه دروغش بر گردن خود اوست؛ و اگر راست مىگويد، پارهاى از وعدههايى كه داده است به شما خواهد رسيد. هر آينه خدا هيچ گزافكار دروغگويى را هدايت نمىكند.
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آلِ فِرْعَوْنَ: فرعون کے خاندان یا اس کے قریبی لوگ۔
یَکْتُمُ إِیمَانَهُ: اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔
بَیِّنَات: واضح دلیلیں اور معجزات۔
مُسْرِفٌ: حد سے تجاوز کرنے والا، حق کو چھوڑ کر باطل پر چلنے والا۔
کَذَّابٌ: بہت جھوٹ بولنے والا۔
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ ایک ایماندار شخص کا ذکر کرتی ہے جو فرعون کے خاندان سے تھا، لیکن اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا۔ جب فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس شخص نے انہیں اس ظالمانہ فعل سے روکنے کی کوشش کی۔ اس نے ان سے کہا: "کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرو گے جس کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے؟" یہ کوئی جرم نہیں، بلکہ یہ تو توحید کا اعلان ہے۔ اس نے مزید کہا کہ موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے واضح معجزے اور دلائل لے کر آئے ہیں جو ان کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
پھر اس نے انہیں سمجھایا کہ اگر موسیٰ جھوٹے ہیں تو ان کا جھوٹ انہی پر پڑے گا، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر وہ سچے ہیں تو پھر جس عذاب کی وہ تمہیں خبر دے رہے ہیں، اس کا کچھ حصہ تم پر آ پڑے گا۔ یہ ایک عقلمندانہ اور منصفانہ بات تھی، کیونکہ کسی کو بلا ثبوت قتل کرنا ظلم ہے۔ آخر میں اس نے یہ حقیقت بیان کی کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے تجاوز کرنے والا اور بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔ یعنی جو لوگ حق کو چھوڑ کر باطل پر چلتے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کا ساتھ دینا کبھی ضائع نہیں جاتا، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ اس ایماندار شخص نے اپنے ایمان کو چھپائے رکھا، لیکن جب موقع آیا تو اس نے بے خوف ہو کر حق کی آواز بلند کی۔ یہ ہمارے لیے درس ہے کہ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، چاہے ہم اکیلے ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ سچے اور صادق لوگوں کی مدد کرتا ہے، اور جو لوگ حق پر قائم رہتے ہیں، انہیں کبھی ذلیل نہیں کرتا۔ آئیے ہم بھی اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور حق کے راستے پر چلیں، کیونکہ اللہ کی ہدایت صرف انہیں ملتی ہے جو سچائی اور انصاف کو اپناتے ہیں۔
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔