Yaa qawmi lakumul mulkul yawma zaahireena fil ardi famai yansurunaa mim baasil laahi in jaaa`anaa; qaala Fir`awnu maaa ureekum illaa maaa araa wa maaa ahdeekum illaa sabeelar Rashaad
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى قوم من، امروز فرمانروايى از آن شماست. بر اين سرزمين غلبه داريد. ولى اگر عذاب خدا بر سر ما آيد چه كسى ياريمان خواهد كرد؟ فرعون گفت: شما را جز آنچه خود مصلحت ديدهام راهى ننمايم و جز به راه صواب راهنمايى نكنم.
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ظَاهِرِينَ: غالب، فتح یافتہ، اقتدار رکھنے والے
بَأْسِ اللہِ: اللہ کا عذاب، اللہ کی سختی اور گرفت
سَبِیلَ الرَّشَادِ: راہِ ہدایت، بھلائی اور کامیابی کا راستہ
تفسیر آیت:
حضرت مؤمنِ آلِ فرعون نے اپنی قوم کو آخر وقت تک نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے میری قوم! آج تمہیں زمینِ مصر میں مکمل اقتدار حاصل ہے، تم غالب اور طاقتور ہو، تمہارے حکم سے سب چلتے ہیں۔ لیکن یہ سلطنت اور قوت اللہ کے عذاب کو ٹالنے والی نہیں۔ اگر اللہ کا عذاب آجائے تو تمہاری یہ فوجیں، یہ خزانے، یہ عزت و جاہ — کیا تمہیں بچا سکیں گے؟ کون ہے جو اللہ کی گرفت سے ہمیں پناہ دے سکے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر غرور میں مبتلا انسان سے کیا جانا چاہیے۔
مگر فرعون نے اپنے غرور اور ہٹ دھرمی میں جواب دیا: میں تمہیں صرف وہی مشورہ دیتا ہوں جو میں خود اپنے لیے بہتر سمجھتا ہوں، اور میں تمہیں صرف راہِ راست کی طرف بلاتا ہوں۔ اس نے اپنی رائے کو ہی حتمی اور صحیح قرار دیا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا مشورہ دیا۔ فرعون کا یہ اندازِ فکر آج بھی ہر اس شخص میں موجود ہے جو اپنی رائے کو ہی آخری سمجھتا ہے اور حق کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیاوی اقتدار اور طاقت کبھی بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی رائے کو حق کے سامنے جھکائے، نہ کہ حق کو اپنی رائے کے تابع کرے۔ فرعون کا انجام سب کے سامنے ہے — وہ اپنی سلطنت اور فوج کے باوجود غرق ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی اور حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اس تکبر سے بچائے جو فرعون کا وصف تھا۔ یاد رکھیں، کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کی راہ پر چلیں، چاہے دنیا کی رائے کچھ بھی ہو۔
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔