غافر · 27/85
ترجمہ تلفظ — غافر
وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ  ۝٢٧
Wa qaala Moosaaaa innee `uztu bi Rabbee wa Rabbikum min kulli mutakabbiril laayu`minu bi Yawmil Hisaab
📖 اردو ترجمہ
موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عُذْتُ: میں نے پناہ لی، میں نے حفاظت طلب کی۔
  • مُتَکَبِّرٍ: تکبر کرنے والا، جو حق کو قبول کرنے سے سرکشی کرے۔
  • لَا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ: جو روزِ حساب (قیامت کے دن) پر ایمان نہیں رکھتا۔

تفسیرِ آیہ:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کی طرف سے دھمکی اور تکبر کا انداز دیکھا، اور وہ سمجھ گئے کہ فرعون اپنے دعوے اور ظلم میں حد سے گزر چکا ہے، تو انہوں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور فرمایا: "میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ حاصل کر لی ہے"۔ یعنی میں اس ذاتِ واحد کی حفاظت میں آ گیا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، وہی سب کا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔

یہاں موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کو "تمہارے رب" کے ساتھ ملا کر ذکر کیا تاکہ فرعون اور اس کی قوم کو یاد دلائیں کہ جس رب کی پناہ میں وہ آ رہے ہیں، وہی ان کا بھی رب ہے، چاہے وہ اسے مانتے نہ ہوں۔ انہوں نے پناہ مانگی "ہر اس متکبر سے جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا"، یعنی ہر اس شخص سے جو حق کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرے، جو اللہ کی وحدانیت اور طاعت سے سرکشی کرے، اور جو اس دن پر یقین نہ رکھتا ہو جب اللہ اپنے بندوں سے ان کے اعمال کا حساب لے گا۔

اس طرح موسیٰ علیہ السلام نے اعلان کیا کہ میری حفاظت کا ذمہ دار وہ رب ہے جو آسمان و زمین کا مالک ہے، نہ کہ کوئی مخلوق۔ انہوں نے اپنی کمزوری اور بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ کی قدرت پر بھروسہ کیا، اور یہ پیغام دیا کہ مومن کی طاقت اس کے ایمان میں ہے، نہ کہ مادی وسائل میں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ جب بندہ کسی ظالم اور سرکش طاقت کا سامنا کرے، تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی پناہ میں آ جائے، کیونکہ اللہ ہی سب سے بڑا محافظ ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے طاقتور اور ظالم بادشاہ کے سامنے گھبرا کر کوئی دنیاوی تدبیر نہیں کی، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کیا۔ یہ ہمارے لیے نمونہ ہے کہ ہر مشکل میں اللہ سے مدد مانگیں، اس پر بھروسہ کریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔

نیز یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ تکبر اور ایمان دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ جو شخص اللہ کے سامنے عاجزی نہیں کرتا اور روزِ حساب پر یقین نہیں رکھتا، وہ ہر قسم کی برائی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے دلوں سے تکبر نکال کر عاجزی اور اللہ کی اطاعت اختیار کرنی چاہیے، اور یومِ حساب پر پختہ ایمان رکھنا چاہیے تاکہ ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیں متکبروں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 25-29 — غافر

25فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ ٱقۡتُلُوٓاْ أَبۡنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ وَٱسۡتَحۡيُواْ نِسَآءَهُمۡۚ وَمَا كَيۡدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٍ 
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
26وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُونِيٓ أَقۡتُلۡ مُوسَىٰ وَلۡيَدۡعُ رَبَّهُۥٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمۡ أَوۡ أَن يُظۡهِرَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡفَسَادَ 
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
27وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ 
موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں
28وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَكۡتُمُ إِيمَٰنَهُۥٓ أَتَقۡتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ ٱللَّهُ وَقَدۡ جَآءَكُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ مِن رَّبِّكُمۡۖ وَإِن يَكُ كَٰذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهُۥۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبۡكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي يَعِدُكُمۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ كَذَّابٌ 
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
29يَٰقَوۡمِ لَكُمُ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَ ظَٰهِرِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِنۢ بَأۡسِ ٱللَّهِ إِن جَآءَنَاۚ قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَآ أُرِيكُمۡ إِلَّا مَآ أَرَىٰ وَمَآ أَهۡدِيكُمۡ إِلَّا سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ 
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
غافرقرآن فہرست
85آیت
مکیRevelation
27آیت

ترجمہ — غافر 27

سورہ آیت 27/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں