فصلت · 44/54
ترجمہ تلفظ — فصلت
وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا أَعۡجَمِيًّا لَّقَالُواْ لَوۡلَا فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥٓۖ ءَا۬عۡجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّۗ قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌۚ وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٌ وَهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًىۚ أُوْلَٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٍ  ۝٤٤
Wa law ja`alnaahu Qur-aanan A`jamiyyal laqaaloo law laa fussilat Aayaatuhoo `a A`jamiyyunw wa `Arabiyy; qul huwa lillazeena aamanoo hudanw wa shifaaa`unw wallazeena la yu`minoona feee aazaanihim waqrunw wa huwa `alaihim `amaa; ulaaa`ika yunaadawna mim maakaanim ba`eed
📖 اردو ترجمہ
اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَعْجَمِيًّا: غیر عربی زبان میں، جسے عرب نہ سمجھ سکیں۔
  • لَوْلَا فُصِّلَتْ: کیوں نہ اس کی آیتیں تفصیل سے بیان کی گئیں (یعنی ہماری سمجھ میں آنے والی زبان میں کیوں نہیں
  • وَقْرٌ: بہرا پن، سماعت کی بندش۔
  • عَمًى: اندھا پن، بصیرت کا فقدان۔
  • یُنَادَوْنَ مِن مَّکَانٍ بَعِیدٍ: ایسے لوگوں کی مثال جو دور سے پکارے جائیں اور سننے اور سمجھنے سے قاصر ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے فضل و کرم اور حکمتِ کاملہ کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں نازل کیا، حالانکہ اگر ہم اسے کسی غیر عربی زبان میں نازل کرتے، تو مشرکینِ عرب فوراً اعتراض کرتے کہ یہ قرآن ہماری زبان میں کیوں نہیں؟ اس کی آیتیں تفصیل سے بیان کیوں نہیں کی گئیں تاکہ ہم اسے سمجھ سکیں؟ وہ کہتے: کیا قرآن اعجمی (غیر عربی) ہو اور رسول عربی ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ ان کا محض بہانہ تھا، ورنہ حق کو ماننے کے لیے زبان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے فرما دیں: یہ قرآن اہلِ ایمان کے لیے ہدایت اور شفا ہے۔ ہدایت اس لیے کہ یہ گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر سیدھے راستے پر چلاتا ہے، اور شفا اس لیے کہ یہ دلوں کے شکوک و شبہات، حسد، کینہ اور تمام روحانی بیماریوں کا علاج ہے۔ جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں، ان کے دلوں کو سکون ملتا ہے اور ان کی روحیں زندہ ہو جاتی ہیں۔

لیکن جو لوگ ایمان نہیں لاتے، ان کے کانوں میں بہرا پن ہے، وہ اس کی آیات سن کر بھی اس پر غور نہیں کرتے، اور یہ قرآن ان کے لیے اندھے پن کا باعث ہے، کیونکہ وہ اس کی آیات میں موجود نشانیوں کو دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ ان کی مثال ایسے شخص جیسی ہے جسے بہت دور سے پکارا جائے، وہ نہ آواز سن سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے، چنانچہ وہ کبھی پکارنے والے کی بات کا جواب نہیں دے سکتا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قرآنِ کریم اللہ کا عظیم ترین تحفہ ہے جو ہماری اپنی زبان میں نازل ہوا، تاکہ ہم اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں۔ یہ ہمارے لیے رحمت ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب کو ہماری سمجھ کے قریب کیا۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں، اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ قرآن وہ نسخہ ہے جو ہر روحانی بیماری کا علاج رکھتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اسے ایمان اور سچے دل سے پڑھیں۔ آج دنیا کے تمام مذاہب اور نظریات انسان کو سکون نہیں دے سکتے، مگر قرآنِ کریم ہر اس دل کو سکون دیتا ہے جو اس سے جڑ جائے۔ اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 42-46 — فصلت

42لَّا يَأۡتِيهِ ٱلۡبَٰطِلُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهِۦۖ تَنزِيلٌ مِّنۡ حَكِيمٍ حَمِيدٍ 
اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے
43مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدۡ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبۡلِكَۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ 
تم سے وہی باتیں کہیں جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے
44وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا أَعۡجَمِيًّا لَّقَالُواْ لَوۡلَا فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥٓۖ ءَا۬عۡجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّۗ قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌۚ وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٌ وَهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًىۚ أُوْلَٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٍ 
اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے
45وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكٍّ مِّنۡهُ مُرِيبٍ 
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
46مَّنۡ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّٰمٍ لِّلۡعَبِيدِ 
جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے۔ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں
فصلتقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
44آیت

ترجمہ — فصلت 44

سورہ آیت 44/54 — فصلت فصلت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فصلت سنیں, فصلت ترجمہ, فصلت mp3, فصلت pdf. آیت 42–46. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں