Wa laqad aatainaa Moosal Kitaaba fakhtulifa fee; wa lawlaa Kalimatun sabaqat mir Rabbika laqudiya bainahum; wa innahum lafee shakkim minhu mureeb
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
موسى را كتاب داديم، اما در آن اختلاف كردند. و اگر نبود آن سخنى كه پروردگارت از پيش گفته بود، ميانشان كار به پايان مىآمد. و البته هنوز به سختى در ترديدند.
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَاخْتُلِفَ فِيهِ: اس میں اختلاف کیا گیا، یعنی کچھ لوگوں نے اسے مانا اور کچھ نے جھٹلایا۔
کَلِمَةٌ سَبَقَتْ: ایک بات جو پہلے سے طے ہو چکی ہے، یعنی اللہ کا وعدہ۔
لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ: ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔
مُرِيبٍ: شک و شبہ میں ڈالنے والا، جو دل کو مضطرب کر دے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے رسول! ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو تورات جیسی عظیم کتاب عطا کی تھی، جیسا کہ آپ کو قرآن دیا گیا ہے۔ لیکن جس طرح آپ کی قوم قرآن کے بارے میں اختلاف کر رہی ہے، اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے بھی تورات کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ ان میں سے کچھ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ہر نبی کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر ہماری طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی، یعنی یہ کہ فیصلہ قیامت کے دن ہوگا، تو ان لوگوں کے درمیان اسی دنیا میں فیصلہ کر دیا جاتا۔ کافر فوراً ہلاک کر دیے جاتے اور حق ظاہر ہو جاتا۔ لیکن اللہ کی حکمت یہ ہے کہ اس نے امتحان کی مدت مقرر کی ہے، اور فیصلے کا وقت قیامت کو بنایا ہے۔
آخر میں فرمایا کہ یہ مشرکین قرآن کے بارے میں ایسے شک میں ہیں جو انہیں بے چین کیے ہوئے ہے۔ وہ نہ تو اسے پوری طرح مانتے ہیں اور نہ ہی اسے رد کر سکتے ہیں، اس لیے وہ حیران و پریشان ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بہت اہم سبق دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں اپنے انبیاء کو کتابیں دیں، اور ہر امت میں کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے انکار کیا۔ لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ حق باطل پر غالب آئے گا، چاہے دیر ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن پر کامل یقین رکھیں اور شک و شبہ سے بچیں۔ قرآن وہ کتاب ہے جو ہر دور کے لیے رہنمائی ہے، اور جو شخص اسے مضبوطی سے تھام لے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ آئیے ہم اپنے دلوں سے شکوک و شبہات کو نکالیں اور قرآن کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔