Wa Yawma yu`radul lazeena kafaroo `alan naari alaisa haaza bil haqq; qaaloo balaa wa Rabbinaa; qaala fazooqul `azaaba bimaa kuntum takfuroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
روزى كه كافران به آتش عرضه شوند: آيا اين حقيقت نيست؟ گويند: بلى، به پروردگارمان سوگند. گويد: به خاطر كفرى كه مىورزيدهايد، اينك عذاب را بچشيد.
اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُعْرَضُ: پیش کیا جائے گا، سامنے لایا جائے گا۔
بِالْحَقِّ: سچ، حقیقت، برحق۔
بَلٰی: ہاں، کیوں نہیں (اقرار کا کلمہ)۔
تَکْفُرُونَ: تم کفر کرتے تھے، انکار کرتے تھے۔
تفسیر:
قیامت کے اس ہولناک دن کا منظر پیش کیا جا رہا ہے جب کافروں کو جہنم کی آگ کے سامنے لا کر کھڑا کیا جائے گا۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب ان کی آنکھوں کے سامنے وہ عذاب ہوگا جس کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے اور جسے جھٹلاتے تھے۔ اس وقت ان سے سرزنش اور ملامت کے انداز میں پوچھا جائے گا: "کیا یہ عذاب حق نہیں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں جو تمہیں دنیا میں بتایا جاتا تھا؟" اس وقت ان کی ساری ضد اور ہٹ دھرمی ختم ہو چکی ہوگی، ان کی زبانیں کھل جائیں گی اور وہ مجبوراً اقرار کریں گے: "ہاں، ہمارے رب کی قسم! یہ بالکل حق ہے۔" لیکن یہ اقرار اب کسی کام کا نہیں ہوگا، کیونکہ ایمان لانے کا وقت گزر چکا ہے۔ یہ اقرار انہیں عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔
اس کے بعد انہیں حکم دیا جائے گا: "تو اب اس عذاب کا مزہ چکھو، اس کا ذائقہ محسوس کرو، کیونکہ تم نے دنیا میں حق کا انکار کیا، رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کی آیات کو جھوٹ قرار دیا۔" یہ وہ سزا ہے جو ان کے اپنے کفر اور انکار کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا، بلکہ انسان خود اپنے اعمال سے اپنا انجام خود تیار کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی عبرت اور نصیحت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن سے پہلے ہی اپنے رب کو پہچان لیں، اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئیں اور اس کی اطاعت کریں۔ یہاں اقرارِ حق اس وقت کیا جائے گا جب اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم دنیا میں ہی اپنے رب کے سامنے جھک جائیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور نیک اعمال کریں۔ جو شخص آج اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرے گا، اسے کل قیامت کے دن سرخرو کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ رحیم اور کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ آئیے ہم اس مہلت کو غنیمت جانیں اور اپنے رب کی رضا کے لیے عمل کریں، تاکہ ہم اس دن کے خوف اور عذاب سے محفوظ رہیں اور جنت کی نعمتوں سے ہمکنار ہوں۔
اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں
کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں۔ وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے
اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو
پس (اے محمدﷺ) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو۔ جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ (یہ قرآن) پیغام ہے۔ سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔