ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَوَسْوِسُ: دل کے اندر آنے والے خیالات اور وسوسے، یعنی جو باتیں دل میں پیدا ہوتی ہیں۔
- حَبْلِ الْوَرِیدِ: گردن کی رگ، جو دل سے جڑی ہوتی ہے اور جسم میں خون کا اہم راستہ ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنی عظیم قدرت اور کامل علم کا ذکر فرما رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا، اور ہم خوب جانتے ہیں جو وسوسے اور خیالات اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں، چاہے وہ اچھے ہوں یا برے، ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، یہاں تک کہ انسان کے دل کے اندر کی باتیں بھی اس پر عیاں ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس انسان سے اس کی گردن کی رگ (شہ رگ) سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ یہ قربت علم اور قدرت کی قربت ہے، یعنی اللہ کا علم اور اس کی قدرت انسان کے وجود کے اندر تک پہنچی ہوئی ہے، اس کی رگوں اور شریانوں سے بھی زیادہ قریب۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال سے پوری طرح باخبر ہے، اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت اور سبق ہے۔ جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ اللہ ہمارے دلوں کے اندر تک دیکھتا اور جانتا ہے، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو پاک رکھیں، اپنے خیالات کو صاف رکھیں، اور ہر وقت یہ یاد رکھیں کہ اللہ ہم سے ہماری رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ یہ قربت ہمیں گناہوں سے روکتی ہے اور نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔
یہ آیت اللہ کی رحمت اور محبت کا بھی پتہ دیتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے اتنا قریب ہے کہ ان کے دل کی دھڑکن اور خیالات تک سے واقف ہے، پھر بھی وہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اور ان کی دعائیں سنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس قربت کا احساس کریں اور اپنے رب سے ہر وقت جڑے رہیں، کیونکہ وہ ہم سے ہماری جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔
📜 آیت 14-18 — ق
ترجمہ — ق 16
سورہ ق آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور…سورہ آیت 16/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








