ق · 15/45
ترجمہ تلفظ — ق
أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ ۝١٥
Afa`a yeenaa bilkhalqil awwal; bal hum fee labsim min khalqin jadeed
📖 اردو ترجمہ
کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَفَعَيِينَا: کیا ہم عاجز ہو گئے؟ (یعنی کیا ہم تھک گئے یا ناتواں ہو گئے؟)
  • بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ: پہلی بار پیدا کرنے سے۔
  • لَبْسٍ: شبہ، حیرت، الجھن۔
  • خَلْقٍ جَدِيدٍ: نئی پیدائش (یعنی دوبارہ زندہ کرنا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکینِ مکہ کو ان کے اس انکارِ آخرت پر سرزنش فرما رہے ہیں جو وہ تعجب اور استبعاد کے ساتھ کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے: "کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے تو ہم پھر سے زندہ کیے جائیں گے؟ یہ تو ناممکن ہے!" اللہ تعالیٰ ان کے اس خیالِ باطل کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز ہو گئے تھے؟" یعنی جب ہم نے تمہیں عدم سے وجود بخشا، تمہارے ماں کے پیٹ میں تمہاری تخلیق کے مراحل طے کیے، اور تمہیں ایک مکمل انسان بنا کر زمین پر اتارا، تو کیا یہ ہماری قدرت کا کوئی معجزہ نہ تھا؟ کیا تمہارا یہ پہلا وجود ہماری قدرت کی دلیل نہیں؟ جس ذات نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا، کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ یقیناً وہ قادر ہے، اور اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بلکہ وہ نئی تخلیق کے بارے میں شبہ میں ہیں۔" یعنی ان کا انکار حقیقت میں دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ محض حیرت اور شک کی وجہ سے ہے۔ ان کے دلوں میں قیامت اور دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں الجھن ہے، ورنہ اگر وہ غور و فکر کرتے تو پہلی تخلیق ہی ان کے لیے دوسری تخلیق کی سب سے بڑی دلیل تھی۔ جس طرح انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ نطفہ سے خون کے لوتھڑے میں، پھر گوشت کے ٹکڑے میں، پھر ایک مکمل انسان میں تبدیل ہوئے، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور ایمان کی تجدید کا سامان ہے۔ جب بھی ہمیں اپنی زندگی میں کوئی مشکل یا ناممکن نظر آنے والا کام درپیش آئے، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عدم سے وجود بخشا ہے۔ وہ ذات جو کائنات کو عدم سے پیدا کر سکتی ہے، وہ ہر مشکل کو آسان کر سکتی ہے، ہر بند دروازے کو کھول سکتی ہے، اور ہر دکھ کو خوشی میں بدل سکتی ہے۔ ہمیں اپنے رب کی قدرت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے، کیونکہ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا، اور وہی ہماری تمام پریشانیوں کا مداوا بھی کر سکتا ہے۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے رب کی قدرت پر بھروسہ کریں، اور آخرت کی تیاری کریں، کیونکہ یہی وہ دن ہے جب ہر انسان کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 13-17 — ق

13وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ
اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی
14وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ
اور بن کے رہنے والے اور تُبّع کی قوم۔ (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعید (عذاب) بھی پورا ہو کر رہا
15أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ
کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں
16وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں
17إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ
جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں
ققرآن فہرست
45آیت
مکیRevelation
15آیت

ترجمہ — ق 15

سورہ ق آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں)…

سورہ آیت 15/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں