ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خَلَقَ: پیدا کیا، وجود بخشا۔
- الْإِنسَانَ: انسان، یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنی عظیم ترین نعمت کا ذکر فرما رہے ہیں، جو اس کی رحمتِ خاصہ کا مظہر ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا، اور اس کی تخلیق کو انتہائی حسین اور مکمل بنایا۔ انسان کو سیدھا کھڑا ہونے والا، خوبصورت شکل و صورت والا، اور اشرف المخلوقات بنایا۔ یہاں "انسان" سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں، جو تمام انسانوں کے باپ ہیں، اور ان کی نسل سے تمام بنی نوع انسان وجود میں آئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض پیدا کر کے نہیں چھوڑا، بلکہ اسے سب سے بہترین ساخت عطا کی، اسے عقل و شعور دیا، اور سب سے بڑھ کر اسے بیان کرنے کی صلاحیت بخشی، تاکہ وہ اپنے دل کے خیالات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچا سکے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انسان کو تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ انسان بولتا ہے، سمجھتا ہے، اور اپنے رب کی نشانیوں پر غور و فکر کرتا ہے۔
یہ اللہ کا بے پایاں کرم ہے کہ اس نے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اس کی عبادت کرے، اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ جب ہم اپنی تخلیق پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت اور حکمت کے بیشمار نقوش نظر آتے ہیں۔ کیا یہ نعمت اس قابل نہیں کہ ہم اپنے رب کا شکر ادا کریں؟ کیا یہ احسان اس لائق نہیں کہ ہم اس کے سامنے سر جھکا دیں؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے اس پر اپنا فضل عظیم فرمایا، اور اسے ہدایت کا راستہ دکھایا۔ پس اے انسان! تو اپنے رب کے اس احسان کو یاد رکھ، اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزار، کیونکہ یہی تیری کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اللہ نے تجھے پیدا کیا، تجھے عزت دی، اور تجھے اپنی عبادت کے لیے چنا۔ کیا یہ سب کچھ تجھے اس کی محبت اور شکرگزاری کی طرف نہیں بلاتا؟
📜 آیت 1-5 — رحمن
ترجمہ — رحمن 3
سورہ رحمن آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اسی نے انسان کو پیدا کیاسورہ آیت 3/78 — رحمن الرحمن (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رحمن سنیں, رحمن ترجمہ, رحمن mp3, رحمن pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








