ترجمہ — Tafsir
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
معانی الفاظ:
- آلاء: نعمتیں، احسانات، انعامات۔ یہ "اَلْی" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے نعمت اور احسان۔
- رَبِّکُمَا: تم دونوں کا رب (جن اور انسان دونوں کو خطاب ہے)۔
- تُکَذِّبَانِ: تم جھٹلاتے ہو، تم انکار کرتے ہو۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن اور انسان دونوں کو مخاطب کر کے ایک ایسا سوال فرمایا ہے جو قیامت کے دن بھی دہرایا جائے گا اور دنیا میں بھی ہر نعمت پر غور کرنے والے کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "پھر اے جن و انس! تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"
یہ آیت اس سورۃ کا ایک مرکزی جملہ ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنی بیشمار نعمتوں کو شمار کراتے ہیں اور ہر نعمت کے بعد یہ سوال فرماتے ہیں کہ تم ان میں سے کس نعمت کو جھٹلانے کی جرأت رکھتے ہو؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق، سورج اور چاند کی روشنی، بارش کا نزول، پھلوں اور اناج کی فراوانی، سمندروں میں چلنے والی کشتیاں، اور بے شمار دوسری نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ ہر سانس، ہر دھڑکن، ہر لمحہ کی حفاظت، آنکھوں کی بینائی، کانوں کی سماعت، زبان کی گویائی، ہاتھوں کی طاقت، پاؤں کی استواری، یہ سب رب کی نعمتیں ہیں۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے گرد و پیش نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ اللہ نے ہمیں کتنی نعمتیں عطا کی ہیں۔ کیا ان نعمتوں کا کوئی بدل ہے؟ کیا ان میں سے کوئی نعمت کسی اور کی دی ہوئی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ سب کچھ صرف اور صرف اللہ رب العالمین کا فضل و کرم ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ایک اہم دعوتی پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنے رب کی نعمتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے، نہ کہ ناشکری کرنے والا۔ جب ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو ہمیں اللہ کی رحمت کے بیشمار نشانات نظر آتے ہیں۔ ہر صبح کا طلوع، ہر شام کا غروب، ہر پھول کی خوشبو، ہر پھل کا ذائقہ، یہ سب اللہ کی محبت کا اظہار ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زبان کو شکر کے لیے استعمال کریں، نہ کہ شکایت کے لیے۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو ہمیں اپنی آسانیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے اس کا شمار کرنا بھی ممکن نہیں۔
آخر میں یہی سوال ہم سے پوچھا جائے گا کہ "تم نے اپنے رب کی کن نعمتوں کو جھٹلایا؟" آج ہی سے ہم اپنے رب کے شکر گزار بندے بن جائیں، اپنی زبان کو حمد و ثنا کے لیے استعمال کریں، اور اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کریں۔ اللہ ہمیں شکر گزار بندے بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 53-57 — رحمن
ترجمہ — رحمن 55
سورہ رحمن آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو…سورہ آیت 55/78 — رحمن الرحمن (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رحمن سنیں, رحمن ترجمہ, رحمن mp3, رحمن pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








