Yawma yaqoolul munaa fiqoona walmunaafiqaatu lillazeena aamanun zuroonaa naqtabis min noorikum qeelarji`oo waraaa`akum faltamisoo nooran faduriba bainahum bisooril lahoo baab, baatinuhoo feehir rahmatu wa zaahiruhoo min qibalihi-`azaab
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اُس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف سے (شفقت) کیجیئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو۔ پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اس کی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (واذیت)
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
روزى كه مردان منافق و زنان منافق به كسانى كه ايمان آوردهاند مىگويند: درنگى كنيد تا از نورتان فروغى گيريم. گويند: به دنيا بازگرديد و از آنجا نور بطلبيد. ميانشان ديوارى برآورند كه بر آن ديوار درى باشد؛ درون آن رحمت باشد و بيرون آن عذاب.
اُس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف سے (شفقت) کیجیئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو۔ پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اس کی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (واذیت)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
انظُرُونَا: ہمارا انتظار کرو، یا ہماری طرف دیکھو۔
نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ: ہم تمہارے نور سے روشنی حاصل کر لیں۔
فَالْتَمِسُوا: تلاش کرو، ڈھونڈو۔
سُور: دیوار، حائل، رکاوٹ۔
بَاطِنُهُ: اس کا اندرونی حصہ (جو مؤمنین کی طرف ہے)۔
ظَاهِرُهُ: اس کا بیرونی حصہ (جو منافقین کی طرف ہے)۔
تفسیر:
قیامت کے دن جب مؤمنین کو نور عطا کیا جائے گا اور وہ پل صراط پر روشنی کے ساتھ گزر رہے ہوں گے، تو منافق مرد اور منافق عورتیں ان سے کہیں گے: "ہمارا انتظار کرو، ہمیں بھی اپنے نور سے کچھ روشنی حاصل کرنے دو، تاکہ ہم بھی اس روشنی میں تمہارے ساتھ چل سکیں۔" لیکن انہیں جواب دیا جائے گا: "تم پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو۔" یہ جواب ان کے لیے ذلت اور ملامت کا باعث ہوگا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مؤمنین ان کی مدد کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور عمل کا نور صرف مؤمنین کو ملا ہے، منافقین کا ایمان خالص نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی نور نہیں ملے گا۔
پھر ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کا اندرونی رخ (جو مؤمنین کی طرف ہے) رحمت سے بھرا ہوگا، یعنی جنت کی نعمتیں اور خوشیاں وہاں ہوں گی، اور اس کا بیرونی رخ (جو منافقین کی طرف ہے) عذاب سے بھرا ہوگا، یعنی جہنم کا عذاب وہاں ہوگا۔ یہ منظر انتہائی عبرتناک ہے کہ ایک ہی دیوار کے دو رخ ہیں: ایک طرف رحمت اور سکون، دوسری طرف عذاب اور افسوس۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ایمان کو خالص اور سچا بنائیں، کیونکہ منافقین کا انجام کتنا برا ہوگا۔ وہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ رہے، لیکن دل سے ایمان نہ لائے، اس لیے آخرت میں انہیں کوئی روشنی نہ ملے گی۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور ریاکاری اور نفاق سے بچیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے، اور وہی ہمیں سچی روشنی عطا کرے گا۔ آئیے ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے لیے خالص کریں، تاکہ قیامت کے دن ہمیں بھی نور ملے اور ہم جنت کی رحمت میں داخل ہو سکیں۔ اللہ ہم سب کو سچا ایمان اور نیک عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان (کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے
اُس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف سے (شفقت) کیجیئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو۔ پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اس کی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (واذیت)
تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔