La`in ukhrijoo laa yakhrujoona ma`ahum wa la`in qootiloo laa yansuroonahum wa la`in nasaroohum la yuwallunnal adbaara summa laa yunsaroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر آنها را اخراج كنند، با آنها بيرون نشوند. و اگر به جنگشان بيايند ياريشان نمىكنند، و اگر هم به ياريشان برخيزند به دشمن پشت مىكنند. پس روى يارى نبينند.
اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَئِنْ أُخْرِجُوا: اگر وہ (یہود) نکالے جائیں۔
لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ: (منافق) ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔
قُوتِلُوا: ان سے جنگ کی جائے۔
لَا يَنصُرُونَهُمْ: وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔
لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ: وہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ: پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں کے اس وعدہ کی حقیقت بیان فرما رہے ہیں جو انہوں نے یہودِ مدینہ (بنی نضیر) سے کیا تھا کہ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے جھوٹے وعدوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اگر یہود کو ان کے گھروں سے نکالا جائے تو یہ منافق ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے، کیونکہ وہ اپنی جان اور مال کی حفاظت کو سب کچھ پر مقدم رکھتے ہیں۔ اور اگر یہود سے جنگ کی جائے تو یہ منافق ان کی مدد کے لیے نہیں آئیں گے، چاہے انہوں نے کتنے ہی زور دار وعدے کیوں نہ کیے ہوں۔ اور اگر وہ (منافق) کسی طرح ان کی مدد پر آمادہ بھی ہو جائیں تو وہ میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان کی طاقت نہیں، اور وہ اللہ کی مدد سے محروم ہیں۔ پھر ان منافقوں کو بھی کوئی مدد نہ ملے گی، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں، بلکہ اللہ انہیں ذلیل و رسوا کرے گا۔
یہ آیت منافقوں کی کمزوری اور بزدلی کو ظاہر کرتی ہے، اور ساتھ ہی یہود کے ساتھ ان کے تعلقات کی حقیقت بھی بیان کرتی ہے کہ یہ سب محض دھوکہ اور فریب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ان کے مکر و فریب سے آگاہ کر دیا تاکہ آپ ان پر بھروسہ نہ کریں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ کریں، نہ کہ مخلوق پر، کیونکہ انسان کے وعدے کبھی پورے ہو سکتے ہیں اور کبھی نہیں، لیکن اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا اور پورا ہوتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ منافقین اور کمزور ایمان والوں سے کبھی مدد کی امید نہ رکھیں، کیونکہ وہ مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اپنی صفوں کو متحد رکھیں، کیونکہ اللہ کی مدد صرف انہیں کو ملتی ہے جو اس پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں اور اس کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ "بے شک اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں"۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ پر توکل کریں، اس کی اطاعت کریں، اور اس کے دین کی نصرت کریں، تو اللہ بھی ہماری نصرت فرمائے گا۔
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی
یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔