Wallazeena jaaa`oo min ba`dihim yaqooloona Rabbanagh fir lanaa wa li ikhwaani nal lazeena sabqoonaa bil eemaani wa laa taj`al fee quloobinaa ghillalil lazeena aamanoo rabbannaaa innaka Ra`oofur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسانى كه از پس ايشان آمدهاند، مىگويند: اى پروردگار ما، ما و برادران ما را كه پيش از ما ايمان آوردهاند بيامرز و كينه كسانى را كه ايمان آوردهاند، در دل ما جاى مده. اى پروردگار ما، تو مشفق و مهربان هستى.
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
غِلًّا: کینہ، بغض، حسد، یا دلی چھپا ہوا بغض۔
رَءُوفٌ: بہت مہربان، نہایت شفقت فرمانے والا۔
رَّحِيمٌ: بے حد رحم کرنے والا، دائمی رحمت والا۔
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ ان مومنوں کے بارے میں ہے جو ہجرت کرنے والے مہاجرین اور مدینہ کے انصار کے بعد آئے، یعنی تابعین اور ان کے بعد قیامت تک کے تمام مومنین۔ یہ لوگ اپنی زبان سے یہ دعا کرتے ہیں: "اے ہمارے رب! ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی بخشش فرما جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔" یعنی وہ اپنے لیے اور اپنے سے پہلے گزرے ہوئے مومنین کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، چاہے وہ مہاجرین ہوں یا انصار، اور ان کے دلوں میں کسی بھی مومن کے لیے کوئی کینہ، حسد یا بغض نہیں ہوتا۔ وہ یہ بھی دعا کرتے ہیں: "اے ہمارے رب! ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بے شک تو بہت مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔"
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی تعلیم ہے کہ انہیں اپنے سے پہلے گزرے ہوئے سلف صالحین، خاص طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرنی چاہیے، ان کے لیے دعائے مغفرت کرنی چاہیے، اور ان کے بارے میں دل میں کوئی بغض یا کینہ نہیں رکھنا چاہیے۔ جو شخص صحابہ کرام سے محبت نہیں کرتا یا ان کے بارے میں دل میں کینہ رکھتا ہے، وہ اس آیت کے مخاطب میں شامل نہیں ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کو اتحاد، محبت اور اخوت کا درس دیتی ہے، اور سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے دینی بھائیوں کے لیے دعا کرنی چاہیے، چاہے وہ ہم سے پہلے گزر چکے ہوں یا بعد میں آئیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو کینہ، حسد اور بغض سے پاک رکھنا چاہیے، اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رحمت اور مغفرت کے قریب لے جاتا ہے۔ آئیے ہم سب اس آیت پر عمل کریں، اپنے دلوں کو صاف رکھیں، اور اپنے سلف صالحین سے محبت کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ ہم پر بھی اپنی رحمت اور مغفرت نازل فرمائے۔
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ مراد پانے والے ہیں
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔