انعام · 136/165
ترجمہ تلفظ — انعام
وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ۝١٣٦
Wa ja`aloo lillaahi mimmaa zara-a minal harsi walan`aami naseeban faqaaloo haazaa lillaahi biza`mihim wa haaza lishurakaa`inaa famaa kaana lishurakaaa`ihim falaa yasilu ilal laahi wa maa kaana lillaahi fahuwa yasilu ilaa shurakaaa`ihim; saaa`a maa yahkumoon
📖 اردو ترجمہ
اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت نمبر 136 کا تفسیر

پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:

  • ذَرَأَ: پیدا کیا، تخلیق کیا۔
  • الْحَرْثِ: کھیتی، کھیتیاں اور زراعت۔
  • الْأَنْعَامِ: چوپائے، جانور (اونٹ، گائے، بکری وغیرہ
  • نَصِيبًا: حصہ، ٹکڑا۔
  • بِزَعْمِهِمْ: ان کے اپنے گمان اور جھوٹے دعوے کے مطابق۔
  • شُرَكَائِنَا: ہمارے شریک (یعنی ان کے بت اور معبود
  • سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ: بہت برا ہے وہ فیصلہ جو یہ کرتے ہیں۔

تفسیر:

یہ آیت مشرکینِ عرب کی ایک انتہائی عجیب اور باطل روش کا پردہ چاک کرتی ہے، جو انہوں نے اپنی طرف سے ایجاد کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکوں نے اللہ کے لیے، اس کی پیدا کردہ چیزوں میں سے — چاہے وہ کھیتیاں ہوں یا چوپائے — ایک حصہ مقرر کیا اور کہا: "یہ حصہ اللہ کے لیے ہے" اور دوسرا حصہ اپنے بتوں اور معبودوں کے لیے الگ کیا۔

لیکن دیکھیے ان کا ظلم اور جہالت! جب ان کے بتوں والے حصے میں سے کچھ چیز اللہ کے حصے میں مل جاتی، تو وہ اسے اللہ کے حصے میں نہیں آنے دیتے تھے، بلکہ کہتے: "اللہ تو غنی ہے، اسے اس کی ضرورت نہیں" — اور اسے بتوں ہی کے حصے میں شامل کر لیتے۔ اور اگر اللہ کے حصے میں سے کچھ بتوں کے حصے میں چلا جاتا، تو وہ اسے واپس اللہ کے حصے میں نہیں لاتے تھے، بلکہ کہتے: "بتوں کو اس کی ضرورت ہے، یہ محتاج ہیں۔" اس طرح وہ اللہ کے حصے کو تو بتوں تک پہنچا دیتے تھے، لیکن بتوں کے حصے کو اللہ تک ہرگز نہیں پہنچنے دیتے تھے۔

یہ تھی ان کی من مانی تقسیم! حالانکہ اللہ تعالیٰ تو تمام جہانوں کا مالک ہے، وہ کسی چیز کا محتاج نہیں، جبکہ یہ بت تو خود ان کی اپنی تراشی ہوئی مخلوق تھے، نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتے تھے اور نہ کوئی فائدہ۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس فعل کو سخت الفاظ میں رد کیا اور فرمایا: "بہت برا ہے وہ فیصلہ جو یہ کرتے ہیں!" یعنی ان کا یہ حکم اور تقسیم نہ صرف باطل ہے، بلکہ انتہائی برا اور قابلِ مذمت ہے۔


دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان جب اپنی عقل اور خواہشات کو معیار بنا لیتا ہے، تو وہ کس قدر گمراہ ہو جاتا ہے۔ مشرکین نے اپنے گمان سے اللہ کے لیے حصہ مقرر کیا، لیکن حقیقت میں وہ اللہ کی توہین کر رہے تھے۔ آج بھی کچھ لوگ اپنی من مانی سے دین میں نئی چیزیں داخل کر لیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کے قریب کرنے والا عمل ہے، حالانکہ اللہ نے صرف اپنے رسول ﷺ کے ذریعے بتائے ہوئے طریقے ہی قبول فرماتا ہے۔

یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے، اس میں سے خرچ کرنا اور اس کا حق ادا کرنا ہمارا امتحان ہے۔ اللہ کو ہماری دولت کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے ہمارے دلوں کی پاکیزگی اور اخلاص کی ضرورت ہے۔ جب ہم اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، تو یہ ہمارے لیے ہی بہتر ہے، اللہ اس کا محتاج نہیں۔ آئیے ہم اپنے معاملات کو اللہ کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق بنائیں، اور اپنی من گھڑت رسموں اور بدعات سے بچیں، تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شمار ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 134-138 — انعام

134إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ ۖ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے
135قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے
136وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے
137وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ
138وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
136آیت

ترجمہ — انعام 136

سورہ انعام آیت 136 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں…

سورہ آیت 136/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 134–138. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں