ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَسَرَّ: چھپ کر کہا، راز کی بات بتائی۔
- حَدِیثًا: ایک بات، ایک راز کی خبر۔
- نَبَّأَتْ بِهِ: اس نے وہ بات دوسرے کو بتا دی۔
- أَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ: اللہ نے نبی ﷺ کو اس راز کے افشاء پر مطلع کر دیا۔
- عَرَّفَ بَعْضَهُ: نبی ﷺ نے اس (حفصہ رضی اللہ عنہا) کو کچھ بات بتائی۔
- أَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ: کچھ باتوں سے درگزر کیا، یعنی سب کچھ نہیں بتایا۔
- الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ: سب کچھ جاننے والا، ہر بھید سے باخبر۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک اہم واقعہ بیان فرما رہے ہیں جو نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے ساتھ پیش آیا۔ نبی ﷺ نے اپنی ایک زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے راز کی ایک بات کہی، جس کا تعلق آپ ﷺ کی ذاتی زندگی سے تھا۔ آپ ﷺ نے یہ بات صرف انہیں بتائی تھی اور یہ توقع تھی کہ وہ اسے محفوظ رکھیں گی۔ لیکن حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ راز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو وحی کے ذریعے اس راز کے افشاء پر مطلع کر دیا۔ جب نبی ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس کا کچھ حصہ بتایا کہ انہوں نے کیا کیا، لیکن کچھ باتوں سے درگزر فرمایا، تاکہ ان کی شرمندگی زیادہ نہ ہو۔ یہ نبی ﷺ کی عظیم الشان اخلاقی خوبی تھی کہ آپ ﷺ نے مکمل پردہ فاش نہیں کیا بلکہ نرمی اور حکمت سے کام لیا۔
جب نبی ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ انہوں نے راز افشاء کیا ہے، تو وہ حیران ہو کر پوچھنے لگیں: "آپ کو یہ کس نے بتایا؟" نبی ﷺ نے جواب دیا: "مجھے اس ذات نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چھپی بات سے باخبر ہے۔" یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی، جو ہر راز کو جانتا ہے، خواہ وہ دلوں میں ہو یا زبانوں پر۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:
- راز کی حفاظت: مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی کے راز کو افشاء نہ کرے، خاص کر جب کوئی شخص اسے اعتماد میں لے کر بات بتائے۔ راز کی حفاظت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
- نبی ﷺ کی عظمت: اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی زندگی بھی عام انسانوں کی طرح گزرتی تھی، لیکن آپ ﷺ کا اخلاق و کردار ہر حال میں مثالی تھا۔ آپ ﷺ نے غصے یا سختی کے بجائے نرمی اور حکمت سے معاملہ کیا۔
- اللہ کی علمیت: اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے، چاہے وہ چھپی ہو یا ظاہر۔ یہ ہمارے لیے نصیحت ہے کہ ہم ہر وقت یاد رکھیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہر بات جانتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چاہیے اور اپنے اعمال کو درست رکھنا چاہیے۔
- معاف کرنے کی خوبی: نبی ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو مکمل طور پر شرمندہ نہیں کیا، بلکہ کچھ باتوں سے درگزر فرمایا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا اور معاف کرنا بہترین اخلاق ہے۔
یہ واقعہ ہمیں اپنی زندگیوں میں رازداری، اخلاق، اور اللہ کی نگرانی کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ نبی ﷺ کی سیرت طیبہ سے محبت اور اتباع کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 1-5 — تحریم
ترجمہ — تحریم 3
سورہ آیت 3/12 — تحریم التحريم (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: تحریم سنیں, تحریم ترجمہ, تحریم mp3, تحریم pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








