خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔ اور خدا ہی تمہارا کارساز ہے۔ اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَرَضَ: مقرر کیا، حکم دیا۔
تَحِلَّةَ: حلال کرنے کا طریقہ، یعنی قسم توڑنے کا کفارہ۔
أَيْمَانِكُمْ: تمہاری قسموں۔
مَوْلَاكُمْ: تمہارا مددگار، کارساز، سرپرست۔
الْعَلِيمُ: خوب جاننے والا۔
الْحَكِيمُ: حکمت والا، ہر کام میں مصلحت رکھنے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں پر بڑا فضل و کرم فرمایا ہے کہ انہیں قسموں کے حلف سے نکلنے کا آسان راستہ عطا کیا۔ جب کوئی مسلمان کوئی قسم کھا لیتا ہے اور پھر اسے توڑنا بہتر سمجھتا ہے (کیونکہ اس میں خیر ہوتی ہے)، تو اللہ نے اس کے لیے کفارہ مقرر کیا ہے، جس کی ادائیگی سے اس کی قسم حلال ہو جاتی ہے۔ یہ کفارہ یہ ہے: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا انہیں کپڑے پہنانا، یا ایک غلام آزاد کرنا، اور جو شخص ان میں سے کسی کی استطاعت نہ رکھے تو وہ تین دن کے روزے رکھے۔
یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارا ولی اور مددگار ہے، وہ تمہاری بھلائی چاہتا ہے اور تمہارے حالات سے خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بعض اوقات قسم پر قائم رہنا نقصان دہ ہوتا ہے، اس لیے اس نے تمہیں کفارے کے ذریعے نجات کا راستہ سکھایا۔ وہ اپنے احکام میں کامل علم رکھنے والا ہے اور ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے، اس کی ہر مشروعیت میں بندوں کی مصلحت پوشیدہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ کی رحمت اور آسانی کا بہترین نمونہ نظر آتا ہے۔ دین اسلام تنگی اور سختی کا نام نہیں، بلکہ یہ آسانی اور نرمی کا دین ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں پر ایسا دروازہ کھولا ہے جس سے وہ اپنی غلطیوں کو سنوار سکیں اور اپنے رب کی رضا حاصل کر سکیں۔ یہ حکم ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں احتیاط کریں، قسمیں کم کھائیں، لیکن اگر کبھی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ کی دی ہوئی آسانی سے فائدہ اٹھائیں اور توبہ کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ اللہ ہر حال میں ہمارا مددگار ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اس کے احکام کو دل سے قبول کریں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو؟ (کیا اس سے) اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتا دی) ۔ جب اس نے اس کو افشاء کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے ان (بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے
اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں۔ اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبریل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں۔ اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔