In tatoobaaa ilal laahi faqad saghat quloobukumaa wa in tazaaharaa `alihi fa innal laaha huwa mawlaahu wa jibreelu wa saalihul mu`mineen; walma laaa`ikatu ba`dazaalika zaheer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں۔ اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبریل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں۔ اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر شما دو زن توبه كنيد بهتر است، زيرا دلهايتان از حق باز گشته است. و اگر براى آزارش همدست شويد، خدا ياور اوست و نيز جبرئيل و مؤمنان شايسته و فرشتگان از آن پس ياور او خواهند بود.
تَظَاهَرَا: تم دونوں باہم تعاون کرو، ایک دوسرے کی مدد کرو۔
مَوْلَاهُ: اس کا مددگار، اس کا ولی اور کارساز۔
صَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ: نیک اور صالح ایمان والے، یعنی برگزیدہ مومنین۔
ظَهِيرٌ: مددگار، پشت پناہ۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو مخاطب فرما کر ایک اہم سبق دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، کیونکہ تمہارے دلوں میں کچھ ایسی بات پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے تمہارے دل حق سے ہٹ گئے تھے۔ تم نے رسول اللہ ﷺ کی اس بات کو ناپسند کیا جو آپ نے اپنی ایک زوجہ کے بارے میں فرمائی تھی، اور تم نے اس راز کو افشا کر دیا جو رسول اللہ ﷺ نے تم میں سے ایک کو بتایا تھا۔ یہ تمہارے دلوں کا میلان تھا جو اللہ کی ناپسندیدہ چیز کی طرف ہوا، اس لیے تم پر توبہ لازم ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے خلاف باہم تعاون کرو گی اور آپ کو ایذا دینے کے لیے اکٹھی ہو جاؤ گی تو یاد رکھو کہ اللہ خود آپ کا ولی اور مددگار ہے، اور جبرائیل امین بھی آپ کے مددگار ہیں، اور نیک مومنین بھی آپ کے حامی و ناصر ہیں، اور اس سب کے بعد تمام فرشتے بھی آپ کی پشت پناہی کے لیے حاضر ہیں۔ یعنی کوئی بھی طاقت رسول اللہ ﷺ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے اور نیک بندے سب آپ کے ساتھ ہیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور ادب ہر مومن پر فرض ہے، اور آپ کی ذات کو تکلیف دینے والی کوئی بھی بات، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔ نیز یہ کہ اللہ اپنے نبی کی حفاظت خود کرتا ہے، اور کوئی بھی سازش آپ کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکتی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گناہ کے بعد فوراً توبہ کرنی چاہیے، چاہے گناہ کتنا ہی بڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے والا ہے اور وہ اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔ نیز یہ کہ نبی ﷺ سے محبت اور ادب ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور جو لوگ آپ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، اللہ ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنائیں اور آپ کی محبت کو اپنے دلوں میں بڑھائیں، کیونکہ آپ ہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ اللہ ہمیں توبہ کی توفیق دے اور ہمیں نبی ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین۔
اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں۔ اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبریل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں۔ اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں
اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتا دی) ۔ جب اس نے اس کو افشاء کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے ان (بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے
اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں۔ اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبریل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں۔ اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں
اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دے دے۔ مسلمان، صاحب ایمان فرمانبردار توبہ کرنے والیاں عبادت گذار روزہ رکھنے والیاں بن شوہر اور کنواریاں
مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔