اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَنَحُوا: جھک گئے، میل کیا، راغب ہوئے۔
لِلسَّلْمِ: صلح اور امن کی طرف۔
فَاجْنَحْ لَهَا: تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ، قبول کر لو۔
تَوَكَّلْ: بھروسہ کرو، اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان کو ایک عظیم اخلاقی اور حکمت عملی کی تعلیم دے رہے ہیں۔ جب دشمن جنگ سے تھک جائیں، یا ان کے دلوں میں امن کی خواہش پیدا ہو، اور وہ صلح کے لیے ہاتھ بڑھائیں، تو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ بھی ان کی اس نیک خواہش کا خیرمقدم کریں، ان کی دعوتِ صلح کو قبول کریں، اور اس میں کوئی تکبر یا ضد نہ برتیں۔ اسلام دشمنی اور جنگ کا دین نہیں، بلکہ امن اور سلامتی کا دین ہے۔ جب تک دشمن صلح کے لیے آمادہ ہوں، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جنگ کو ترجیح نہ دیں، کیونکہ جنگ میں دونوں طرف سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو امن و صلاحیت پسند ہے۔
اس حکم کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ صلح کرتے وقت اپنا بھروسہ صرف اللہ پر رکھو، نہ کہ دشمن کے وعدوں پر۔ کیونکہ دشمن کی نیتوں کا علم صرف اللہ کو ہے۔ وہ ظاہر میں صلح کا پیغام دے رہے ہوں، لیکن ان کے دلوں میں کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ اس لیے آپ اپنا کام کرو، یعنی صلح کی دعوت قبول کرو، لیکن اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دو، اور اس پر مکمل بھروسہ رکھو۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا ہے، وہ ان کی زبانی باتوں کو بھی جانتا ہے، اور ان کے دلوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے۔ وہ تمہیں کبھی نقصان میں نہیں ڈالے گا، اگر تم نے اس کی اطاعت کی اور اس پر توکل کیا۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم رہنما اصول ہے کہ وہ ہمیشہ امن کو ترجیح دیں، لیکن اپنی حفاظت اور دفاع کا مکمل انتظام بھی رکھیں، اور ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
اور جہاں تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا
اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔