اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حَسْبَكَ: تیرے لیے کافی ہے۔
أَيَّدَكَ: تجھے قوت دی، مضبوط کیا۔
تفسیر:
اے نبی! اگر وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے، صلح کے بہانے تمہیں دھوکہ دینا چاہیں اور چاہیں کہ اس طرح تمہیں غافل کر کے تم پر حملہ کر دیں، تو تمہیں کوئی غم نہ کرنا۔ اللہ تمہارے لیے کافی ہے، وہی تمہاری حفاظت کرے گا اور ان کے مکر و فریب سے تمہیں بچا لے گا۔ وہی تو ہے جس نے اپنی نصرت سے تمہاری تائید کی اور مومنین (مہاجرین و انصار) کے ذریعے تمہیں قوت بخشی۔ اس نے ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا، حالانکہ وہ پہلے آپس میں دشمن تھے۔ اگر تو ساری زمین کی دولت بھی خرچ کر دیتا تو ان کے دلوں کو اس طرح نہ ملا سکتا، لیکن اللہ نے ایمان کی برکت سے ان کے دلوں میں محبت اور اخوت پیدا کر دی۔ بے شک اللہ غالب ہے اپنے معاملے میں، حکمت والا ہے اپنے فیصلوں میں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مومنین کے لیے عظیم بشارت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اسے ہر خطرے سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ پر توکل کریں اور اس کی نصرت پر یقین رکھیں۔ نیز یہ کہ مسلمانوں کی حقیقی قوت ان کا اتحاد اور آپس کی محبت ہے، جو اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو صاف رکھیں، آپس میں بھائی چارے کو مضبوط کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ اللہ ہر مکر اور فریب سے اپنے مخلص بندوں کی حفاظت فرماتا ہے، بشرطیکہ وہ اس پر سچے دل سے بھروسہ کریں۔
اور جہاں تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا
اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔