ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں مسلمانوں پر یہ حکم نازل کیا تھا کہ ایک مومن دس کافروں کے مقابلے میں ثابت قدم رہے، لیکن یہ حکم مسلمانوں پر گراں تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے تخفیف فرمائی اور مسلمانوں کے حالات اور ان کی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم میں نرمی کی۔
معانی الفاظ:
- خَفَّفَ اللَّهُ عَنكُمْ: اللہ نے تم پر بوجھ ہلکا کیا
- ضَعْفًا: کمزوری، ناتوانی
- صَابِرَةٌ: ثابت قدم رہنے والی، صبر کرنے والی
- بِإِذْنِ اللَّهِ: اللہ کی توفیق اور مدد سے
- مَعَ الصَّابِرِينَ: صبر کرنے والوں کے ساتھ (نصرت و تائید کے ساتھ)
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ابتدائی طور پر مسلمانوں پر یہ حکم لگایا تھا کہ ایک شخص دس کافروں کے مقابلے میں ثابت قدم رہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمزوری اور ناتوانی کو دیکھا تو اپنے فضل و کرم سے ان پر یہ بوجھ ہلکا کر دیا۔ یہ تخفیف اللہ کی رحمت اور مہربانی کا نتیجہ تھی، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی حالت سے خوب واقف ہے۔
اس تخفیف کے بعد حکم یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے سو صابر اور ثابت قدم افراد ہوں تو وہ دو سو کافروں پر غالب آ سکتے ہیں، اور اگر ایک ہزار صابر افراد ہوں تو وہ دو ہزار کافروں کو شکست دے سکتے ہیں۔ یہ فتح و کامیابی اللہ کے اذن اور اس کی مدد سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف اپنی طاقت سے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صبر کو کامیابی کی کلید قرار دیا ہے۔ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرتے ہیں، یعنی وہ ان کی مدد کرتا ہے، انہیں تائید دیتا ہے اور ان کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا کرتا ہے۔ یہ وعدہ صرف جنگی میدان تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال رہتی ہے۔
اس تخفیف کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کمزوریوں سے واقف ہے اور وہ ان پر ایسا بوجھ نہیں ڈالتا جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔ یہ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمائے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، صبر کریں اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف کریں، کیونکہ اللہ اپنے صابر بندوں کے ساتھ ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے شامل حال ہے، چاہے وہ تعداد میں کم ہوں، کیونکہ اللہ کی نصرت کا دارومدار تعداد پر نہیں بلکہ ایمان اور صبر پر ہے۔
یہ وعدہ آج بھی ہر اس مسلمان کے لیے ہے جو اپنے دین کی خاطر صبر کرتا ہے اور اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والوں میں شامل فرمائے اور اپنی نصرت سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 64-68 — انفال
ترجمہ — انفال 66
سورہ آیت 66/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








