ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَسْرَىٰ: قیدی، جنگی قیدی
- يُثْخِنَ: خوب قتل کرے، کفر کی کمر توڑ دے
- عَرَضَ الدُّنْيَا: دنیا کا عارضی مال و متاع (فدیہ)
- عَزِيزٌ: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے
- حَكِيمٌ: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت سے کرے
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کو ایک اہم اصولی سبق سکھا رہے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمن کو خوب کچل نہ دے، یعنی جب تک کفر کی طاقت کو توڑ کر اسلام کی قوت کو غالب نہ کر لے۔ یہ حکم اس لیے تھا کہ اس وقت مسلمان کمزور تھے اور دشمن کی کمر توڑنا ضروری تھا تاکہ ان کے دلوں میں رعب بیٹھ جائے اور وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکیں۔
غزوہ بدر کے موقع پر جب مسلمانوں نے 70 قیدی بنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر فرمایا: "تم دنیا کا عارضی مال چاہتے ہو (فدیہ لے کر) جبکہ اللہ تمہارے لیے آخرت چاہتا ہے۔" یعنی اللہ چاہتا تھا کہ تم دین کی سربلندی اور آخرت کی کامیابی کے لیے کام کرو، نہ کہ دنیا کے معمولی فائدے کے لیے۔
یہ آیت مسلمانوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ جب دین کی سربلندی اور اسلام کی بقا کا معاملہ ہو تو دنیا کے مفادات کو قربان کر دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے بعد میں جب اسلام کی قوت مضبوط ہو گئی تو قیدیوں کے بارے میں اختیار دیا کہ چاہے فدیہ لے کر چھوڑ دو یا احسان کر کے آزاد کر دو۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ ہر مرحلے میں وہی حکم دیتا ہے جو اس وقت کی مصلحت کے مطابق ہو۔
اللہ تعالیٰ عزیز ہے یعنی غالب اور زبردست، کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا، اور حکیم ہے یعنی ہر کام حکمت اور مصلحت سے کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام پر بھروسہ کریں اور سمجھیں کہ جو کچھ اللہ کرتا ہے، بہتر ہی کرتا ہے۔
پیارے مسلمانو! اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی معمولی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے آخرت کی کامیابی کو اپنا مقصد بنائیں۔ جب ہم اللہ کی راہ میں اپنا مال، وقت اور جان قربان کرتے ہیں تو اللہ ہمیں اس سے کہیں بہتر اجر عطا فرماتا ہے۔ اللہ کی حکمت پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی جانتا ہے کہ کب کیا کرنا چاہیے۔ آج بھی جب امت مسلمہ کمزور ہے تو ہمیں اپنی صفوں کو مضبوط کرنا ہے، اتحاد پیدا کرنا ہے، اور اللہ کی راہ میں قربانی کے جذبے کو زندہ رکھنا ہے تاکہ اللہ کا دین سربلند ہو اور ہمیں آخرت میں کامیابی ملے۔
📜 آیت 65-69 — انفال
ترجمہ — انفال 67
سورہ انفال آیت 67 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی…سورہ آیت 67/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 65–69. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








