Wa in nakasooo aimaanahum mim ba`di `ahdihim wa ta`anoo fee deenikum faqaatilooo a`immatal kufri innahum laaa aimaana lahum la`allahum yantahoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر پس از بستن پيمان، سوگند خود شكستند و در دين شما طعن زدند، با پيشوايان كفر قتال كنيد كه ايشان را رسم سوگند نگهداشتن نيست، باشد كه از كردار خود باز ايستند.
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَكَثُوا: عہد توڑ دیا، قسمیں توڑ دیں۔
أَيْمَان: قسمیں (جمع: یمین)۔
طَعَنُوا: عیب لگایا، برائی کی، تنقید کی۔
أَئِمَّةَ الْكُفْرِ: کفر کے سردار، کفر کے پیشوا۔
لَا أَيْمَانَ لَهُمْ: ان کی کوئی قسم قابلِ اعتبار نہیں، ان کا کوئی عہد و پیمان نہیں۔
يَنْتَهُون: باز آ جائیں، رک جائیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ اگر یہ مشرکین، جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا، اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیں اور اپنی قسموں سے پھر جائیں، اور تمہارے دینِ اسلام پر طعن و تشنیع کریں، اسے عیب لگائیں اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کریں، تو پھر تم ان کے خلاف جنگ کرو۔ یہاں خاص طور پر "أَئِمَّةَ الْكُفْرِ" یعنی کفر کے سرداروں اور رہنماؤں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہی لوگ فتنہ کا سرچشمہ ہیں اور ان کے پیچھے دوسرے چلتے ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کی کوئی قسم اور عہد قابلِ اعتبار نہیں، کیونکہ وہ خود اپنے عہد کو توڑ چکے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ وفاداری کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ مقصد یہ ہے کہ ان سے قتال کرو تاکہ وہ اپنی کفرانہ روش اور عداوت سے باز آ جائیں، اور یہ جنگ ان کے لیے باعثِ عبرت ہو۔
یہ حکم اس وقت کے مشرکینِ قریش کے بارے میں نازل ہوا، لیکن اس کا اصول عام ہے کہ جو کوئی مسلمانوں سے معاہدہ کرے اور پھر اسے توڑ دے، اور دینِ اسلام پر حملہ آور ہو، اس کے خلاف دفاعی جہاد واجب ہے۔ یہ حکم مسلمانوں کی عزت و حفاظت اور دین کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ ظلم و زیادتی کے لیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ امن ہے، لیکن جب دشمن عہد شکنی کرے اور دین پر حملہ آور ہو تو مسلمانوں کے لیے خاموش بیٹھنا جائز نہیں۔ یہ حکم مسلمانوں کی حفاظت اور ان کے دین کی سر بلندی کے لیے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کریں، لیکن جو لوگ ہمارے ساتھ دھوکہ کریں، ان کے سامنے ثابت قدمی اور حوصلے سے پیش آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عزت اور قوت دی ہے، اور ہمیں اس قوت کو حق کے لیے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ ظلم کے لیے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کریں اور حق پر قائم رہیں۔
اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں
بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔