Alam yaatihim naba ul lazeena min qablihim qawmi Noohinw wa `Aadinw wa Samooda wa qawmi Ibraaheema wa ashaabi adyana walmu`tafikaat; atathum Rusuluhum bilbaiyinaati famaa kaanal laahu liyazlimahum wa laakin kaanooo anfusahum yazlimoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا خبر كسانى كه پيش از آنها بودهاند چون قوم نوح و عاد و ثمود و قوم ابراهيم و اصحاب مدين و مؤتفكه را نشنيدهاند كه پيامبرانشان با نشانههاى آشكار بر آنها مبعوث شدند؟ خدا به آنها ستم نمىكرد، آنان خود بر خود ستم مىكردند.
کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَبَأ: خبر، اطلاع
قَوْمِ نُوحٍ: حضرت نوح علیہ السلام کی قوم
عَادٍ: قوم ہود علیہ السلام
ثَمُودَ: قوم صالح علیہ السلام
قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم
أَصْحَابِ مَدْيَنَ: حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم
الْمُؤْتَفِكَاتِ: الٹی ہوئی بستیوں والی قوم (قوم لوط علیہ السلام)
بِالْبَيِّنَاتِ: واضح دلائل اور معجزات کے ساتھ
تفسیر:
اے نبی! کیا ان منافقوں کو ان لوگوں کا حال نہیں پہنچا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ جنہوں نے اپنے انبیاء کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت کی، تو اللہ نے انہیں کیسے تباہ و برباد کیا۔ ان میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم تھی جنہیں طوفان میں غرق کر دیا گیا، قوم عاد تھی جنہیں تیز و تند آندھی سے ہلاک کیا گیا، قوم ثمود تھی جنہیں زلزلے اور چیخ نے آ لیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم تھی جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین تھی جنہیں دن کے سائبان والے عذاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور قوم لوط علیہ السلام کی الٹی ہوئی بستیاں تھیں جنہیں اللہ نے زمین کے اوپر سے نیچے کر دیا۔
ان تمام قوموں کے پاس ان کے رسول واضح دلائل اور روشن معجزات لے کر آئے، لیکن انہوں نے پھر بھی ایمان لانے سے انکار کر دیا اور اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے کہ بغیر کسی سبب کے کسی کو عذاب میں مبتلا کر دے، بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ انہوں نے اپنے اختیار سے کفر اور تکذیب کا راستہ چنا، اپنے نفسوں کو عذاب کے حوالے کیا، اور اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کیا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑی عبرت اور نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ قومیں اپنی طاقت اور شوکت میں بہت بڑی تھیں، لیکن جب انہوں نے اپنے انبیاء کی بات نہ مانی اور اللہ کے احکامات کو نظر انداز کیا، تو ان کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ تھا۔ آج بھی اللہ کا قانون بدلا نہیں ہے۔ جو قومیں اللہ کے رسولوں کی تعلیمات پر عمل کریں گی، اللہ انہیں عزت اور کامیابی دے گا، اور جو ان سے منہ موڑیں گی، ان کا انجام بھی انہی قوموں جیسا ہوگا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ان تاریخی واقعات سے سبق لیں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو سنواریں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا، لیکن جو شخص خود اپنے اعمال سے اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے، وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
الله نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور خدا نے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے
(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں
کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔