ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُمَّةً وَاحِدَةً: ایک ہی دین اور ایک ہی راہ پر چلنے والی جماعت۔
- فَاخْتَلَفُوا: پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور مختلف راستے اختیار کر لیے۔
- كَلِمَةٌ سَبَقَتْ: وہ حکم اور فیصلہ جو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی صادر فرما دیا۔
- لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ: ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں انسانوں کی ابتدائی حالت اور ان کے بعد کے اختلاف کا ذکر فرما رہے ہیں۔ تمام انسان شروع میں ایک ہی امت تھے، یعنی سب ایک ہی دینِ فطرت پر تھے، جو توحید اور اللہ کی عبادت کا دین ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر کچھ عرصے تک لوگ اسی سیدھے راستے پر قائم رہے، لیکن پھر آہستہ آہستہ ان میں اختلاف پیدا ہوا، کچھ لوگ حق پر قائم رہے اور کچھ نے گمراہی اختیار کر لی، شرک اور بت پرستی پھیل گئی۔
یہ اختلاف صرف عقیدے تک محدود نہیں رہا، بلکہ معاملات، عبادات اور زندگی کے ہر شعبے میں پھیل گیا۔ ہر گروہ نے اپنے اپنے خیالات اور خواہشات کے مطابق راستے بنا لیے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر ان کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی، تو ان کے درمیان فوراً فیصلہ کر دیا جاتا۔ وہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دنیا میں فوراً نہیں دے گا، بلکہ انہیں مہلت دے گا اور ان کا اصل فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ اگر یہ مہلت نہ ہوتی، تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں حق اور باطل کا فیصلہ کر دیتا، اہلِ باطل کو ہلاک کر دیتا اور اہلِ حق کو باقی رکھتا۔
لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو آزمائے، انہیں موقع دے کہ وہ اپنے اعمال خود چنیں، اور پھر قیامت کے دن ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اصل چیز اللہ کے دین پر قائم رہنا ہے۔ ابتداء میں تمام انسان ایک ہی دین پر تھے، اور اختلاف انسانوں کی اپنی کمزوری اور شیطان کے بہکانے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ آج بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کی صورت میں وہی اصل راستہ دے رکھا ہے، جس پر چل کر ہم اختلاف سے بچ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے ہمیں مہلت دی ہے، ہماری فوری گرفت نہیں کی، تاکہ ہم توبہ کر لیں اور اپنی زندگی سنوار لیں۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ہمیں موقع دے رہا ہے، ہمیں چاہیے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، اپنے اختلافات کو ختم کریں، اور اللہ کی طرف پورے دل سے رجوع کریں۔ یاد رکھیں، قیامت کا دن ضرور آنے والا ہے، جب اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ہر اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں ہم اختلاف کرتے ہیں۔ اس لیے آج ہی اپنے رب کے سامنے جھک جائیں، اور اس کی رحمت اور مغفرت کے طلب گار بنیں۔
📜 آیت 17-21 — یونس
ترجمہ — یونس 19
سورہ یونس آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی…سورہ آیت 19/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








