A kaana linnaasi `aaban an awhainaaa ilaa rajulim minhum an anzirin naasa wa bashshiril lazeena aamanoo anna lahum qadama sidqin `inda Rabbihim; qaalal kaafiroona inna haaza lasaahirum mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا مردم در شگفتند از اينكه به مردى از خودشان وحى كرديم كه مردم را بترسان و مؤمنان را بشارت ده كه در نزد پروردگارشان پايگاهى رفيع دارند؟ كافران گفتند كه اين مرد آشكارا جادوگرى است.
کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
قَدَمَ صِدْقٍ: نیک عمل، صدق اور ایمان کی بنیاد پر اللہ کے ہاں بلند مرتبہ اور درجہ۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد وہ عمل صالح ہے جو انسان اپنے رب کے پاس بھیجتا ہے۔
سَاحِرٌ مُبِین: واضح اور کھلا جادوگر۔
تفسیر:
کیا لوگوں کے لیے یہ تعجب کی بات تھی کہ ہم نے ایک انسان (جو انہیں میں سے تھا) کی طرف وحی بھیجی؟ یہ استفہام انکاری ہے، یعنی یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی برگزیدہ بندے کو منتخب کر کے اس پر وحی نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو دو اہم ذمہ داریاں سونپی تھیں: ایک یہ کہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں برے اعمال سے باز رکھے، اور دوسری یہ کہ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں انہیں خوشخبری دے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بلند مرتبہ اور عظیم اجر ہے، جو ان کے پہلے سے بھیجے ہوئے نیک اعمال کی بدولت ہے۔
یہ سن کر کافروں نے تعجب کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے، اور جو کچھ لے کر آیا ہے وہ ظاہری جادو ہے۔ حالانکہ یہ ان کی جہالت اور ہٹ دھرمی تھی، کیونکہ وحی کا نزول کسی انسان پر اللہ کی رحمت اور حکمت کا تقاضا ہے، اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ اللہ اپنے بندوں میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہم پر یہ احسان فرمایا کہ ہم میں سے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا، تاکہ وہ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے۔ یہ اللہ کی محبت اور رحمت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عظیم نعمت کا شکر ادا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں، اور اپنے اعمال صالحہ کو اللہ کے پاس بھیجیں تاکہ ہم بھی "قَدَمَ صِدْقٍ" یعنی بلند مرتبہ حاصل کر سکیں۔ یاد رکھیں، کافروں کا تعجب اور انکار انہیں ہلاکت میں لے گیا، لیکن مومنوں کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کا رب انہیں کبھی ناکام نہیں کرے گا۔ آئیے ہم اس دعوت کو قبول کریں اور اپنی زندگیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جائیں۔
کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے
تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے
اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔