ترجمہ — Tafsir
فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ
معانی الفاظ:
- نُنَجِّیکَ: ہم تمہیں نکالیں گے، یعنی تمہاری لاش کو سمندر سے باہر نکال کر ایک بلند جگہ پر ڈال دیں گے۔
- بِبَدَنِکَ: تمہارے جسم کے ساتھ، یعنی تمہاری لاش کو سلامت رکھ کر۔
- لِمَنْ خَلْفَکَ: ان لوگوں کے لیے جو تمہارے بعد آنے والے ہیں۔
- آیَةً: نشانی، عبرت کا نشان۔
- لَغَافِلُونَ: ضرور غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرعون کے انجام کو بیان فرما رہے ہیں۔ جب فرعون نے غرق ہوتے وقت ایمان لانے کا دعویٰ کیا تو اللہ نے اسے قبول نہیں کیا، کیونکہ وہ وقت ایمان کا نہیں تھا۔ لیکن اللہ نے اپنی قدرت کا ایک اور عظیم نشان دکھایا کہ آج ہم تمہاری لاش کو سمندر سے نکال کر ایک بلند جگہ پر ڈال دیں گے، تمہارا جسم سلامت رہے گا تاکہ تمہارے بعد آنے والی نسلیں تمہیں دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ یہ اس لیے بھی تھا کہ جب تم نے کہا تھا کہ "میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں" تو اب لوگ خود دیکھ لیں کہ جس نے ربوبیت کا دعویٰ کیا تھا، وہ ایک بے جان لاش کی صورت میں پڑا ہے، نہ وہ خود کو بچا سکا اور نہ اپنی قوم کو۔
یہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ اس نے فرعون کی لاش کو محفوظ رکھا تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنے۔ آج بھی مصر کے عجائب گھر میں فرعون کی ممی موجود ہے، جو اس آیت کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر غالب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ وہ ان نشانیوں پر غور نہیں کرتے، نہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ نشانیاں ان کے سامنے موجود ہیں، لیکن وہ اپنی غفلت کی وجہ سے انہیں دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ پہلا سبق یہ کہ اللہ کی قدرت کے آگے کوئی طاقت نہیں چل سکتی۔ فرعون جیسا ظالم اور مغرور بادشاہ، جس نے خود کو رب کہا تھا، اللہ کی ایک موج نے اسے نیست و نابود کر دیا۔ دوسرا سبق یہ کہ ایمان لانے کا وقت موت کے وقت نہیں ہوتا، بلکہ جب تک زندگی ہے، توبہ اور ایمان کا دروازہ کھلا ہے۔ تیسرا سبق یہ کہ اللہ کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان پر غور کریں اور عبرت حاصل کریں۔
آج بھی فرعون کی لاش ایک نشانی ہے، لیکن کتنے لوگ ہیں جو اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرتے ہیں؟ بہت کم۔ اکثر لوگ غفلت میں ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی آنکھوں سے اللہ کی نشانیاں دیکھیں، اپنے دلوں سے غور کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں غفلت سے بچائے اور ہمیں عبرت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 90-94 — یونس
ترجمہ — یونس 92
سورہ یونس آیت 92 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں…سورہ آیت 92/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 90–94. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








